احتجاج سب کا حق ہے لیکن اس کے لیے شہر بند نہیں کیا جا سکتا: اسلام آباد ہائی کورٹ

عمران تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے عمران خان کو 31 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے بھی کہا ہے

اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران شہر بند کرنے سے روکتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو بھی شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے نہیں دیے جائے گا۔

عدالت نے حکومت سے بھی کہنا ہے کہ شہر میں کسی مقام پر آمدورفت روکنے کے لیے رکاوٹیں نہ لگائی جائیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کی جانب سے یہ حکم جمعرات کو اسلام آباد میں عمران خان کے دھرنے کو روکنے سے متعلق چار درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا گیا ہے۔

٭ 'تیسری قوت آئی تو اس کے ذمہ دار نواز شریف ہوں گے'

عمران خان نے دو نومبر کو حکومت کے خلاف احتجاجی مہم کے سلسلے میں اسلام آباد میں دھرنا دینے اور شہر بند کر دینے کا اعلان کیا ہے۔

اس معاملے پر دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سیکریٹری داخلہ سے کہا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے کہ عمران خان کو جلسے کے لیے کوئی ایک مخصوص مقام فراہم کیا جائے اور انھیں وہاں تک محدود رکھا جائے۔

اس کے علاوہ سیکریٹری داخلہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ شہر میں کسی بھی مقام پر کنٹینرز نہ لگائے جائیں۔

عدالت نے مزید کہا ہے کہ احتجاج کرنا سب کا حق ہے لیکن اس کے لیے شہر کو بند نہیں کیا جا سکتا اور دو نومبر کو شہر میں کوئی سکول اور کالج بند نہیں کیا جائے گا۔

شوکت عزیز صدیقی نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ عمران خان کے جلسے کے لیے پریڈ ایوینیو میں انتظامات کریں اور انھیں وہیں تک محدود رکھنے کو یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی نے عمران خان کو 31 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کے لیے بھی کہا ہے۔

دھرنا روکنے کی درخواستوں کی سماعت کے دوران جج شوکت عزیز صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے شہر کو بند کرنے کی تقاریر ان کی موجودگی میں ہی سنی جائیں گی اور اس پر ان سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان حکومتی مشینری کو جام کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے سماعت میں مزید کہا کہ یہ سب جان لیں کہ امپائر یا تھرڈ امپائر کوئی نہیں صرف عدالت ہے۔

خیال رہے کہ عمران خان نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کے احتجاج کے نتیجے میں کوئی تیسری قوت آتی ہے تو اس کے ذمہ دار بھی نواز شریف ہی ہوں گے۔

عدالت کے اس حکم کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے عمران خان کی سربراہی میں تحریکِ انصاف کے اہم رہنماؤں کا اجلاس بنی گالہ میں منعقد ہوا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بینچ یا سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے اس فیصلے کے خلاف حکمِ امتناعی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

اسی بارے میں