’انڈیا کی فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو منہ توڑ جواب دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ہم نے ہرممکن حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، امن کے لیے ہماری خواہش کو کمزوری تصور نہ کیا جائے‘

پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ان کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کی فوج کے مطابق انڈیا کی ورکنگ باؤنڈری پر چپراڑ اور ہرپال سیکٹر میں فائرنگ سے پانچ پاکستانی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

وزیراعظم نے انڈین فورسز کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے واقعات کی شدید مذمت کی ہے۔

جمعرات کو وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ’ہم نے ہرممکن حد تک تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، امن کے لیے ہماری خواہش کو کمزوری تصور نہ کیا جائے۔ ہم امن پسند قوم ہیں اور تمام تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک ذمہ دار خودمختار ریاست کی حیثیت سے ہم جنوبی ایشیا کے خطے میں علاقائی امن و استحکام اور مشترکہ ترقی و خوشحالی پر یقین رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دونوں ممالک کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے الزامات پہلے بھی عائد کیے جاتے رہے ہیں

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ’انڈیا کی جانب سے ہماری کوششوں کا موثر جواب نہ دینا افسوسناک ہے۔ انڈیا کو چاہیے کہ وہ حالیہ واقعات کی تحقیقات کرے اوراس کے حقائق پاکستان کو فراہم کرے اور اپنی فوج کو ہدایت کر ے کہ وہ فائر بندی معاہدے کا اس کی حقیقی روح کے مطابق احترام کریں، سرحد کے قریب واقع دیہات کو دانستہ ہدف بنانے سے گریز کریں اور ورکنگ باونڈری اور لائن آف کنٹرول پر امن کا قیام یقینی بنائے۔‘

ادھر پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا کہ ورکنگ باؤنڈری کے چپراڑ اور ہرپال سیکٹر میں 11 گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اور پاکستانی سرحد کے اندر پانچ شہری زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل 24 اکتوبر کو بھی پاکستانی حکام نے انڈین فائرنگ سے ایک بچی سمیت دو افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ'21 اکتوبر سے اب تک بلااشتعال انڈین فائرنگ میں 21 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔'

دوسری جانب انڈیاکے نیم فوجی دستے بی ایس ایف کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جموں میں ورکنگ باؤنڈری پر آر ایس پورہ سیکٹر میں پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی جس میں بی ایس ایف کا ایک جوان زخمی ہو گيا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سرحد پار فائرنگ میں دس افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بیشتر خواتین ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں