’قبائلی خواتین کو فاٹا اصلاحات میں برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے‘

Image caption جمعرات کو پشاور میں تکڑہ قبائلی خویندے کی جانب سے مقامی ہوٹل میں ایک سمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں سول سوسائٹی کی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور فاٹا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں خواتین کی سول سوسائٹی کی تنظیم تکڑہ قبائلی خویندے نے حکومت سے فاٹا اصلاحات میں خواتین کو برابری کی سطح پر نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم نے حکومت سے فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کرنے، فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے ساتھ ساتھ قبائلی خواتین کو تمام اداروں میں شامل کرنے اور انھیں فیصلہ سازی میں مساوی نمائندگی دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

فاٹا اصلاحات خواب یا حقیقت؟

’اصلاحات سے قبل فاٹا میں پائیدار امن کا قیام ترجیح‘

فاٹا اصلاحات سے قبائل غیرمطمئن کیوں؟

جمعرات کو پشاور میں تکڑہ قبائلی خویندے کی جانب سے مقامی ہوٹل میں ایک سمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں سول سوسائٹی کی تنظیموں، وکلا، صحافیوں اور فاٹا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

Image caption سیمینار سے سابق ایم این اے لطیف آفریدی ایڈوکیٹ، پروفیسرڈاکٹر سرفراز اور سنیئیر صحافی ڈاکٹر اشرف علی کے علاوہ قبائلی خواتین نے بھی خطاب کیا

تنظیم کی فوکل پرسن نوشین فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بننے سے لے کر اب تک قبائلی عوام بالخصوص خواتین کے ساتھ ہر ادارے میں بدستور امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اصلاحات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی سفارشات میں خواتین کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی انھیں کمیٹی میں کوئی نمائندگی دی گئی ہے۔

نوشین فاطمہ کے بقول 'قبائلی علاقوں میں آئین پاکستان کے مطابق قوانین کو کیوں لاگو نہیں کیا جاتا اور اب پھر سے وہاں رواج کے تحت عدالتی نظام بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں ہی کیوں مخصوص سٹیٹس دیا جاتا ہے، کیا ہم اس ملک کے شہری نہیں ہیں یا ہم معزور ہیں۔'

فوکل پرسن کا کہنا تھا کہ اصلاحاتی کمیٹی میں فاٹا کی خواتین کو برابری کی سطح پر نمائندگی دی جائے اور کسی ایسے قانون سے گریز کیا جائے جو وہاں خواتین پر پابندیوں کو تقویت دیتا ہوں۔

Image caption تنظیم نے حکومت سے فاٹا کو فوری طور پر خیبر پختونخوا میں ضم کرنے، فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کے ساتھ ساتھ قبائلی خواتین کو تمام اداروں میں شامل کرنے اور انھیں فیصلہ سازی میں مساوی نمائندگی دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

تکڑہ قبائلی خویندے کے کنوینر شاہد شاہ نے کہا کہ ان کی تنظیم نے اس سیمنار میں گورنر خیبر پختونخوا اور فاٹا کے دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو بھی مدعو کیا تھا لیکن کسی اہلکار نے شرکت کی زحمت گوارہ تک نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کا رویہ فاٹا خواتین اتنا ہی غیرسنجیدہ رہا تو ان کی نتظیم اگلے مرحلے میں اپنے حق کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔

سیمینار سے سابق ایم این اے لطیف آفریدی ایڈووکیٹ، پروفیسرڈاکٹر سرفراز اور سنیئیر صحافی ڈاکٹر اشرف علی کے علاوہ قبائلی خواتین نے بھی خطاب کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں