پاناما لیکس کا معاملہ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ سنے گا

سپریم کورٹ
Image caption سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے معاملے میں وزیراعظم نواز شریف سمیت دیگر متعلقہ افراد سے دو ہفتے میں جواب طلب کیا ہوا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پاناما لیکس سے متعلق معاملے کی سماعت کے لیے پانچ رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ہے جو یکم نومبر سے اس کی سماعت کرے گا۔

لارجر بینچ کی تشکیل کا فیصلہ جمعے کو چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی نے کیا۔

٭ پاناما لیکس: وزیراعظم کا الیکشن کمیشن میں جواب دائر

٭ عمران خان کی دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال

بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔

یہ لارجر بینچ پاکستان تحریکِ انصاف کے علاوہ حزبِ مخالف کی دیگر جماعتوں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

خیال رہے کہ اس معاملے میں پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے گذشتہ سماعت پر وزیراعظم نواز شریف سمیت دیگر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کر کے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہوا ہے۔

اس سلسلے میں نوٹس کے اجرا کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ عدالتِ عظمیٰ میں اس معاملے پر کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اور 'عوام کی عدالت تو پے در پے فیصلے صادر کر رہی ہے، بہتر ہوگا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے۔'

وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس معاملے میں اب تک اپوزیشن کی جانب سے مسلسل منفی رویہ سامنے آ رہا ہے اور حکومت کی نیک نیتی پر مبنی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے شفاف اور بے لاگ تحقیقات کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔

اسی بارے میں