وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزرا کی آرمی چیف سے ملاقات، المائڈا کی خبر کی تحقیقات سے آگاہ کیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر داخلہ نے قومی سلامتی کے اجلاس سے متعلق لیک ہونے والی خبر کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات سے جنرل راحیل شریف کو آگاہ کیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے رات گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ملاقات آرمی ہاؤس راولپنڈی میں کی جو شام چار بجے سے ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی۔

بیان کے مطابق اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق حکومتی وفد نے آرمی چیف کو قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر لیک ہونے کی تحقیقات سے آگاہ کیا اور سفارشات بھی دیں۔

رات گئے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اس بیان کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے ٹوئٹر اور میڈیا پر قیاس آرائیاں بھی کی جانے لگیں جن میں خاص طور پر شہباز شریف کے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

اس موقع پاکستان تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’شہباز شریف رات گئے وفاقی وزرا کے ہمراہ آرمی چیف سے ملنے کیوں گئے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے دیگر وزار اعلیٰ میں سے کسی کو بھی ساتھ جانے کے لیے نہیں کہا گیا۔‘

اس کے جواب میں مریم نواز نے بھی ٹویٹ ہی کے ذریعے اس ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’شاید چار بجے تو اتنی تاریکی نہیں ہوتی؟ براہ مہربانی انتشار پھیلانے سے باز رہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یاد رہے کہ یہ خبر شائع ہونے کے بعد وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے ان کی نشاندہی کی جائے۔

وزیراعظم ہاؤس سے پیر کو جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر کے ہمراہ محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے پریس آفس کی طرف سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں جو بیان جاری کیا گیا اس میں گذشتہ ہفتے ملک کے مقتدر ترین اخبار ڈان میں ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئےاس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں