شربت گلہ کی قانونی مدد کے لیے افغان حکام سرگرم

شربت گلہ تصویر کے کاپی رائٹ DPA
Image caption شربت گلہ کی تصویر لینے والے فوٹوگرافر نے بھی ان کی ہر ممکن مدد کرنے کا اعلان کیا ہے

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے الزام میں گرفتار کی جانے والی 'افغان مونا لیزا' شربت گلہ کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

30 برس سے زیادہ عرصہ قبل نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر اپنی تصویر سے شہرت پانے والی شربت گلہ کو ایف آئی اے کے حکام نے بدھ کو پشاور سے گرفتار کیا تھا۔

٭ 'افغان جنگ کی مونا لیزا' شربت گلہ جعلی شناختی کارڈ پر گرفتار

افغان حکومت نے ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد انھیں قانونی مدد فراہم کی ہے اور اسلام آباد میں افغان سفیر حضرت عمر زاخیلوال نے بی بی سی کے خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شربت گلہ کی رہائی کے لیے وہ پاکستانی حکام سے رابطے میں ہیں اور اُنہیں یقین ہے کہ شربت گلہ کو جلد رہا کیا جائے گا۔

زاخیلوال کے مطابق افغان سفارت خانے کے قونصلرز اور وکلا کو پشاور بھیجا گیا ہے تاکہ وہ شربت گلہ کی رہائی کے لیے ہر ممکن قانونی کوششیں کریں۔

صحافی زبیر خان کے مطابق شربت گلہ کو افغان سفارت خانہ کی جانب سے فراہم کردہ وکیل وفی اﷲ ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ جج کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے جمعے کو شربت گلہ کی درخواستِ ضمانت کی سماعت نہیں ہو سکی اور انھیں واپس جیل بھیج دیا گیا ہے جہاں وہ اپنے جوڈیشل ریمانڈ کی 14 روزہ مدت پوری کر رہی ہیں۔

وفی اللہ کے مطابق افغان سفارتخانے کے نمائندے نے بھی ان کے ہمراہ جمعے کو شربت گلہ سے ملاقات کی ہے جس میں 'شربت گلہ نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انھیں انسانی ہمدری کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔'

وفی اﷲ ایڈووکیٹ کے مطابق شربت گلہ ہیپاٹائٹس سی کی مریضہ ہیں اور انھیں تاحال جیل میں ادویات دستیاب نہیں ہیں۔شربت بی بی 1984 میں افغان جنگ کے دوران اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پاکستان منتقل ہوئی تھیں اور انھوں نے ناصر باغ مہاجر کیمپ میں رہائش اختیار کی تھی۔

ان کو عالمی شہرت اس وقت ملی جب نیشنل جیوگرافک کے جون 1985 کے ایڈیشن کے سرورق پر ان کی تصویر چھپی۔ اس وقت وہ 12 سال کی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Huffington Post
Image caption شربت گلہ کے بھائی کشر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شربت گلہ نے پاکستانی شناختی کارڈ اپنے دیور کے کہنے پر بنایا تھا۔

ان کے مطابق ان کی موکلہ کا کہنا تھا کہ 'میں نے زندگی میں بہت سی مشکلات دیکھی ہیں۔ مگر یہ کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ جیل میں بھی رہنا پڑے گا۔'

وفی اﷲ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے حکام نے افغان مہاجرین اور غیر ملکیوں کے لیے جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ سرنڈر کرنے کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر مقرر کر رکھی ہے اور ڈیڈ لائن دیے جانے کے بعد 31 اکتوبر سے پہلے غیر ملکیوں اور افغان مہاجرین کے خلاف جعلی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ رکھنے پر کارروائی کا کوئی بھی جواز موجود نہیں ہے۔

اُدھر افغانستان سے شربت گلہ کے بھائی کشر خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شربت گلہ نے پاکستانی شناختی کارڈ اپنے دیور کے کہنے پر بنایا تھا۔ کشر خان کے مطابق اُنھوں نے شربت گلہ کو منع بھی کیا تھا کہ وہ پاکستانی شناختی نہ بنائے کیونکہ وہ اُن کی تصاویر ایک افغان خاتون کی حیثیت سے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہیں۔

کشر خان نے پاکستانی حکومت سے درخواست کی کہ ان کی بہن کو رہا کیا جائے کیونکہ وہ ایک غریب بیوہ عورت ہیں اور پاکستانی شناختی کارڈ کسی غیرقانونی کام کے لیے استعمال نہیں کر رہی تھیں۔

خیال رہے کہ پاکستان میں اس وقت پندرہ لاکھ کے قریب رجسٹرڈ افغان پناہ گزین اور اتنی ہی تعداد میں غیر رجسٹرڈ افغان پناہ گزین مقیم ہیں۔ پاکستانی حکام کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں ان پناہ گزینوں نے پاکستانی جعلی شناختی کارڈ بنائے ہیں، اور اب کئی ہزار ایسے شناختی بلاک بھی کیے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں