موسم اور ماحول وہی، بس لیڈر بدل گئے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بینظیر اس دن لیاقت باغ پہنچیں، آنسو گیس کے گولوں اور لاٹھیوں کے بیچ کارکنوں سے خطاب کیا اور پھر گرفتار کر لی گئیں اور راتوں رات کراچی بھیج دی گئیں

نومبر کی ایسی ہی دوپہر تھی۔ کچھ سرد، کچھ گرم۔ اسلام آباد میں بینظیر بھٹو کے گھر کے باہر ایسے ہی پولیس اور صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور یوں ہی خاردار تاروں سے بینظیر بھٹو کے باہر نکلنے کے راستے کو بند کر دیا گیا تھا۔

کچھ دیر پہلے ہی اسلام آباد کے ایک پولیس افسر نے کچھ ایسا ہی پیغام بینظیر بھٹو کو ناہید خان کے ذریعے پہنچایا تھا کہ وہ اپنے آپ کو حراست میں سمجھیں اور گھر سے باہر نکلنے کی زحمت نہ کریں۔

بینظیر سے تو خیر اس افسر کی ملاقات ہی نہیں ہوئی اور ناہید خان نے ان کو جو جواب دیا وہ اس افسر کے لیے حیران کن نہیں تھا۔

’بی بی نے اپنے کارکنوں سے وعدہ کیا ہے اور وہ ضرور جائیں گی۔‘

افسر باہر آ کر اپنے جوانوں کو نئے سرے سے صف بندی کی ہدایت دینے لگا۔

اس ہلے گلے میں جانے کیسے میں اس گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ سامنے لاؤنج میں ناہید خان فون پر کسی سے بات کر رہی تھیں۔ ’دس منٹ میں بی بی نکلنے والی ہیں، فاروق صاحب کی گاڑی میں آپ بھی لیاقت باغ پہنچنے کی کوشش کریں۔‘

ناہید خان نے فون رکھا، میری طرف دیکھا اور کرسی گھما کر دوسری طرف کھڑی اپنی ساتھی سے مخاطب ہوئیں۔

’باہر پولیس بہت زیادہ ہے اور پنڈی میں آنسو گیس چل رہی ہے۔ بی بی کے سوئمنگ والے چشمے کہاں ہیں؟‘

ساتھ ہی قریب کھڑے دو افراد کو مخاطب کیا۔ ایک پست قامت تھے اور دوسرے بہت لمبے۔ چھوٹے قد والے سے کہا آپ بی بی کے آگے ہوں گے اور لمبے قد والے سے کہا کہ آپ بی بی کے بالکل پیچھے۔

’پولیس نے لاٹھی چارج کرنا ہے لیکن آپ نے اپنی جگہ نہیں چھوڑنی۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ ویسے تو کسی پولیس والے کی ہمت نہیں لیکن پھر بھی بی بی کو کوئی چھو نہ پائے۔‘

میں الٹے پاؤں باہر آیا، نیلے رنگ کی فاروق لغاری کی پجیرو گاڑی ایف ایٹ کی سڑک پر کھڑی تھی۔ اپنی موٹر سائیکل اس کے ساتھ کھڑی کی تھی کہ گلی میں سے ڈنڈے چلنے کی مخصوص آوازیں آنا شروع ہو گئیں۔

اسی شور شرابے، ڈنڈوں، مکوں اور لاتوں کے درمیان بینظیر بھٹو دکھائی دیں۔ جب میری نظر ان پر پڑی تو وہ تقریباً زمین پر بیٹھ کر پاؤں کے بل رینگتی ہوئی پولیس اور ان کے ڈنڈے کھاتے ہوئے کارکنوں کے بیچ میں سے نکل کر ہجوم سے باہر آرہی تھیں۔

Image caption عمران خان نے جمعے کو راولپنڈی نہ جانے اور دو نومبر کو ہی نکلنے کا اعلان کیا

جیسے ہی وہ اس جھمگٹے سے باہر نکلیں انھوں نے اپنا دوپٹہ سر پر جمایا اور تقریباً دوڑتی ہوئی فاروق لغاری کی جیپ کی طرف لپکیں، پچھلا دروازہ کھولا اور اس میں بیٹھ گئیں۔

گاڑی چلی تو میں نے موٹر سائیکل بھی ساتھ بھگانی شروع کر دی۔

اسلام آباد کے رستوں سے ناواقف فاروق لغاری نے گاڑی ایک بند گلی میں گھما لی۔ میں نے اشارے سے انہیں بتانے کی کوشش کی لیکن فاروق لغاری نہیں توجہ نہیں دی البتہ بینظیر نے وہ اشارہ دیکھ لیا۔

گلی بند تھی اس لیے گاڑی کو واپس آنا ہی تھا لہذا میں وہیں کھڑا ہو گیا۔ گاڑی واپس آئی اور میرے برابر آ کر رک گئی۔ بینظیر نے شیشہ نیچے کیا اور مجھ سے مخاطب ہوئیں۔

’بیٹا ہمارے پیچھے پولیس لگی ہے لیکن ہمیں اپنے لوگوں کے پاس لیاقت باغ پہنچنا ہے۔ کیا آپ وہاں تک ہمیں گائیڈ کر سکتے ہیں۔‘

1992 تھا سو کنٹینرز لگا کر سڑکیں بند کرنے کا رواج نہیں تھا، کہیں خاردار تاریں ہوتی تھیں تو کہیں پولیس درخت کاٹ کر سڑک کے بیچوں بیچ پھینک دیتی تھی۔

ان بند سڑکوں سے بچنے کے لیے میں انھیں اسلام آباد کی گلیوں کے اندر اندر راولپنڈی کی سرحد تک لے آیا۔ وہاں پہنچ کر میں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں بتایا کہ یہ سڑک سیدھی لیاقت باغ جائے گی۔

فاروق لغاری نے گاڑی بھگائی لیکن اچانک زور سے بریک لگی۔ شیشہ نیچے اترا اور بینظیر نے کھڑکی سے سر باہر نکال کر ایک مسکراہٹ بھرا تھینک یو میری طرف اچھال دیا۔

رات گئے دفتر لوٹا تو پتہ چلا کہ بینظیر لیاقت باغ پہنچیں، آنسو گیس کے گولوں اور لاٹھیوں کے بیچ کارکنوں سے خطاب کیا اور پھر گرفتار کر لی گئیں اور راتوں رات کراچی بھیج دیی گئیں۔

کل بنی گالہ سے واپسی پر 24 برس قبل پیش آنے والا یہ واقعہ آنکھوں میں گھومتا رہا۔

اتنے سالوں بعد خیال آیا کہ موسم بھی ویسا ہے اور ماحول بھی۔ بس لیڈر بدل گئے ہیں۔

اسی بارے میں