قومی سلامتی کی خبر کی تحقیقات:’ وفاقی وزیر اطلاعات سے عہدہ واپس لے لیا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وزیراعظم نواز شریف نے قومی سلامتی کے اجلاس سے متعلق لیک ہونے والی خبر کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید سے وزارت کا قلمدان واپس لے لیا ہے۔

اس حوالے سے وزیراعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چھ اکتوبر کو نیشنل سکیورٹی کمیٹی اور نیشنل ایکشن پلان کے متعلق ہونے والی میٹنگ سے متعلق خبر شائع ہونے سے قومی سلامتی خطرے میں ڈال دی گئی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزرا کی آرمی چیف سے ملاقات، المائڈا کی خبر کی تحقیقات سے آگاہ کیا

قومی سلامتی سے متعلق خبر: ’ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی‘

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ وزیرِ اطلاعات کی کوتاہی کی وجہ سے پیش آیا اور اسی لیے انھیں اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا گیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں آئی ایس آئی، ایم آئی اور آئی بی کے اعلیٰ اہلکار شامل ہوں گے اور اس کمیٹی کا مقصد واضح طور پر واقعے کے ذمہ داران کی نشاندہی کرنا ہے۔

اس سے قبل وزیراعظم کے ترجمان مصدق ملک نے مقامی میڈیا سے بات کرت ہوئے سینیٹر پرویز رشید سے قلمدان واپس لینے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی کی خبر کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے بارے میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار آگاہ کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ سینیٹر پرویز رشید کو اس خبر کا ذمہ دار قرار دینا ابھی قبل از وقت ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات کو اس واقعے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا بلکہ وزارتِ اطلاعات کی کوتاہی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

’ابھی تحقیقات جاری ہیں اور اس وقت اپنے آخری مراحل میں ہیں اور جیسے ہی مکمل ہوتی ہیں اس کے نتائج کو عوام کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ جمعرات کی شام کو وزیر اعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر خزانہ اور وفاقی وزیر داخلہ نے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات کے بارے میں پاکستانی فوج کا کہنا تھا کہ حکومتی وفد نے قومی سلامتی کے اجلاس سے متعلق لیک ہونے والی خبر کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات سے جنرل راحیل شریف کو آگاہ کیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے رات گئے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ ملاقات آرمی ہاؤس راولپنڈی میں کی جو شام چار بجے سے ساڑھے پانچ بجے تک جاری رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ پیر کو وزیراعظم نواز شریف نے جنرل راحیل شریف سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے ان کی نشاندہی کی جائے

بیان کے مطابق اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحاق ڈار سمیت ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر بھی موجود تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق حکومتی وفد نے آرمی چیف کو قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر لیک ہونے کی تحقیقات سے آگاہ کیا اور سفارشات بھی دیں۔

رات گئے آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اس بیان کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے ٹوئٹر اور میڈیا پر قیاس آرائیاں بھی کی جانے لگیں جن میں خاص طور پر شہباز شریف کے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات پر تعجب کا اظہار کیا جا رہا تھا۔

یہ خبر شائع ہونے کے بعد وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے ان کی نشاندہی کی جائے۔

وزیراعظم ہاؤس سے گذتشہ پیر کو جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر کے ہمراہ محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے پریس آفس کی طرف سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں جو بیان جاری کیا گیا اس میں ملک کے مقتدر ترین اخبار ڈان میں ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئےاس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکا اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

اسی بارے میں