ذہنی مریض امداد علی کی پھانسی روکنے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امداد علی کی دفاعی ٹیم کا کہنا تھا کہ اس ذہنی مرض کی وجہ سے ان کے موکل کو پھانسی دینا غیرقانونی ہوگا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے ذہنی طور پر معذور قرار دیے گئے سزائے موت کی قیدی امداد علی کی پھانسی روکنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمی نے سزا پر عمل درآمد روکنے کا حکم امداد کی اہلیہ کی طرف سے عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست پر دیا۔

٭ 'ذہنی مریض' امداد علی کی سزائے موت مؤخر

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے مجرم امداد علی کی سزا کے خلاف سماجی تنظیم جسٹس پاکستان پروجیکٹ کی درخواست مسترد کی تھی جس کے بعد اُن کے ڈیتھ وارنٹ بھی حاصل کر لیے گیے تھے جن کے مطابق اُنھیں دو نومبر کو وہاڑی کی جیل میں سزائے موت دی جانی تھی۔

پیر کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سزائے موت پر نظرِ ثانی کی اپیل کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گزار کا موقف تھا کہ اس کا خاوند سکٹزوفرینیا میں مبتلا ہے جس سے اس کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ جب تک اُن کے شوہر کی بیماری کا علاج چل رہا ہے اس وقت تک پھانسی پر عمل درآمد روک دیا جائے۔

سماعت کے بعد سپریم عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔

امداد علی سکٹزوفرینیا یعنی پراگندہ ذہنی کے عارضے میں مبتلا ہیں اور انھیں دو نومبر کو پھانسی دی جانی تھی۔

اس سے قبل پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے اس مقدمے کی سماعت کے دوران فیصلہ دیا تھا کہ سکٹزوفرینیا ایک مستقل مرض نہیں ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ایک مستقل مرض نہیں ہے چنانچہ اس کی بنیاد پر امداد علی کی سزائے موت روکی نہیں جا سکتی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت سول سوسائٹی کے اداروں اور امداد علی کی دفاعی ٹیم کا کہنا تھا کہ ذہنی مرض کی وجہ سے ان کے موکل کو پھانسی دینا غیرقانونی ہوگا۔

اقوام متحدہ کا بھی یہی موقف ہے کہ اگر امداد علی کو سزا دی گئی تو یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔

50 سالہ امداد علی نے 21 جنوری 2001 کو بورے والا میں ایک مدرسے میں حافظ عبداللہ کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

2002 میں انھیں سیشن کورٹ نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔ یہ سزا ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھی۔ تاہم امداد علی کی اہلیہ صبیحہ بانو کا کہنا ہے کہ امداد قتل سے بہت پہلے ذہنی مریض بن چکا تھا

امداد علی کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کو جرم اور سزا کے تصور کی سمجھ ہی نہیں ہے۔

پاکستان کے مختلف طبی اداروں سے وابستہ 14 بڑے ماہرین نفسیات نے ایک کھلے خط میں امداد علی کو ذہنی مریض قرار دیتے ہوئے اس کی سزا پر عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔

خط میں کہا گیا تھا کہ امداد علی جیسے ذہنی مریض کو پھاسنی کی سزا طبی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

اسی بارے میں