'پرزن وین، ایٹ یور سروس'

گولڑہ موڑ اسلام آباد
Image caption معقول وجہ اور شناخت نہ دکھانے کے باوجود اسلام آباد جانے کی ضد کرنے والوں کے لیے چیک پوسٹ کے بالکل پیچھے بکتربند گاڑی بھی کھڑی تھی

تحریک انصاف کے وفاقی دارالحکومت میں متوقع احتجاج کے باوجود اسلام آباد میں پیر کی صبح کاروبارِ زندگی تقریباً معمول کے مطابق ہی رہا۔

شہر میں صبح سویرے ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں تھی۔

گذشتہ شب اسلام آباد کے سکولوں کی انتظامیہ نے یقینی دہانی کے پیغامات بچوں کے والدین کو بھجوا دیے تھے کہ سکول پیر کی صبح معمول کے مطابق کھلیں گے اور اسی لیے سکولوں اور دفاتر میں حاضری بھی معمول کے مطابق ہی بتائی جا رہی ہے۔

لیکن جوں جوں اسلام آباد سے باہر کی طرف رخ کریں تو خاص طور پر ان علاقوں میں جو صوبہ خیبر پختونخوا کی جانب سے اسلام آباد کے داخلی راستوں کے قریب واقع ہیں، یہ معمول کی زندگی کچھ بےچینی اور اضطراب میں تبدیل ہوتی دکھائی دی۔

اسلام آباد میں شمال کی جانب سے داخلی چوک گولڑہ موڑ ہے۔ ایک زمانے میں گولڑہ کا گاؤں اور یہ علاقہ اسلام آباد شہر سے خاصے فاصلے پر تھے تاہم اب اس موڑ کے اس پار بھی اسلام آباد کے کئی سیکٹر پھیل چکے ہیں۔

آج جب گولڑہ موڑ کے اس پار رہنے والوں نے اس چوک سے گزرنا چاہا تو انھیں اپنی شناخت کروانی پڑی۔ ان سب پر شک کیا جا رہا تھا کہ وہ شاید عمران خان کے پارٹی کارکن ہیں اور شہر میں توڑ پھوڑ کی نیت سے داخل ہو رہے ہیں۔

اس شناخت اور تلاشی کے مختلف درجات تھے۔ اگر آپ کی گاڑی میں سکول جانے والے بچے ہیں تو بنا روک ٹوک آپ گزر سکتے ہیں لیکن اگر ایک کار پر چار، پانچ نوجوان ہیں تو پھر آپ کے پانچ منٹ 'ضائع'۔ شناختی کارڈ دکھائیں، اگر اسلام آباد کا پتہ نہیں ہے تو آنے کی وجہ بتائیں، اگر وجہ معقول نہیں ہے تو واپس جائیں۔

کوئی معقول وجہ اور شناخت نہ دکھانے کے باوجود اسلام آباد جانے کی ضد کرنے والوں کے لیے اس چیک پوسٹ کے بالکل پیچھے بکتربند گاڑی بھی کھڑی تھی گو کہ پولیس کے مطابق ابھی تک اسے استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئی۔

گولڑہ موڑ سے آگے موٹروے اور پشاور روڈ شروع ہو جاتی ہیں اور یہاں کی فضا میں ہی کشیدگی محسوس ہوتی ہے۔

ایک طرف پنجاب پولیس کی بسوں سے تازہ دم (ساری رات سفر کے باوجود) دستے اترتے دکھائی دیے تو دوسری طرف رات کے پچھلے پہر سے ڈیوٹی دینے والے اہلکاروں کے لیے ناشتے کی گاڑیاں گھوم رہی تھیں۔

پنجاب پولیس نے موٹر وے اور پشاور روڈ کے سنگم پر اپنی پوزیشن سنبھال لی ہے۔ اس وقت تک سڑک کو بند نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی چیکنگ کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن تیاریاں دیکھ کر لگا کہ ایسا بھی بس ہوا ہی چاہتا ہے۔

پشاور روڈ پر تو صورتحال اور بھی گھمبیر تھی۔ وہاں فرنٹیئر کانسٹیبلری کا راج تھا۔ سیاہ (ملیشیا) کپڑوں میں ملبوس، پشاوری چپل پہنے ایف سی کے جوانوں کے سامنے اسلام آباد اور پنجاب پولیس کے اہلکار معصوم دکھائی دیتے ہیں۔

Image caption تحریک انصاف کے وفاقی دارالحکومت میں متوقع احتجاج کے باوجود اسلام آباد میں پیر کی صبح کاروبارِ زندگی تقریباً معمول کے مطابق ہی رہا

انھوں نے بھی اس وقت تک اپنی چیک پوسٹ پر تلاشی کا عمل شروع نہیں کیا تھا لیکن تیاریاں دیکھ کر لگتا تھا کہ ایسا ہونے کو ہے۔

ان ساری چیک پوسٹس کے درمیان دو قسم کی پولیس گاڑیاں گشت کرتی دکھائی دیں۔ ایک اہلکاروں کے لیے ناشتے کا سامان لانے والی اور دوسری ہے پرزن وین یا قیدیوں کی گاڑی۔

وہیں ایک وین پر وہ پیغام لکھا دکھائی دیا جو معلوم نہیں یہ اسلام آباد کی جیل پولیس کا 'موٹو' ہے یا اس کے ڈرائیور نے توجہ حاصل کرنے کے لیے خود ہی اپنی گاڑی پر لکھوایا تھا۔

پیغام تھا۔۔۔'پرزن وین، ایٹ یور سروس'۔

اسی بارے میں