پاناما لیکس پر کمیشن کے قیام پر اتفاق، سپریم کورٹ نے ضوابطِ کار مانگ لیے

پاکستان سپریم کورٹ
Image caption سپریم کورٹ کے کسی جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو فریقین اس بات کی تحریری یقین دہانی کروائیں کہ اس کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے گا: چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے تحقیقات کے لیے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کرتے ہوئے فریقین سے تین نومبر تک ضوابطِ کار طلب کر لیے ہیں۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے کمیشن کے قیام پر یہ تحریری یقین دہانی طلب کی تھی کہ فریقین تحقیقاتی کمیشن کے فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے۔

٭ احتجاج پریڈ گراؤنڈ تک محدود رکھنے کے فیصلے کے خلاف اپیل

٭ پاناما لیکس: وزیراعظم کا الیکشن کمیشن میں جواب دائر

٭ عمران خان کی دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کی کال

منگل کو سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ اگر فریقین پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے تشکیل کردہ کمیشن کے ضوابطِ کار پر متفق نہ ہوئے تو عدالت خود ضوابطِ کار بنائے گی۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی آئینی درخواستوں کی سماعت کی۔

یہ درخواستیں پاکستان تحریک انصاف،جماعت اسلامی، عوامی مسلم لیگ، جمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ کا لارجر بینچ چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل ہے۔

سماعت کے موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آیا تمام فریقین نے پاناما لیکس کے حوالے سے جواب جمع کروا دیا ہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ نیب کے سوا کسی بھی فریق نے جواب جمع نہیں کرایا۔

اس سلسلے میں وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ انھیں پانچ دن قبل ہی وکیل مقرر کیا گیا ہے لہٰذا انھیں جواب داخل کروانے کے لیے مزید مہلت درکار ہے۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پوری قوم کی نظریں پاناما لیکس پر لگی ہیں اس لیے جواب جمع ہونا چاہیے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اب جب معاملہ عدالت میں ہے تو سڑکوں پر احتجاج کو کوئی جواز موجود نہیں ہے: خواجہ آصف

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بادی النظر میں یہ معاملہ عوامی ہے اس لیے اس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو سکتی ہے۔

سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ تھا کہ پاناما لیکس کا معاملہ سامنے آتے ہی اس کی تحقیقات شروع کر دی جاتیں۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر تاخیر اور اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام نہ دینے کے ذمہ دار ہیں۔

اس پر عدالت نے نیب کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیب اور دیگر اسے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سنجیدہ نہیں تھے۔

عدالت نے سماعت کے آغاز میں تو کمیشن بنانے کی درخواست رد کی اور کہا جب معاملہ سپریم کورٹ میں آ گیا ہے تو اب اس کی کیا ضرورت ہے۔

حامد خان نے جب عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تو بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ نہ تو ٹرائل کورٹ ہے اور نہ ہی کوئی تحقیقاتی ادارہ۔

تاہم بعد ازاں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے کسی جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو فریقین اس بات کی تحریری یقین دہانی کروائیں کہ اس کے فیصلے کو تسلیم کیا جائے گا۔

ادھر سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کمیشن کی تجویز پر اگر دونوں فریق متفق ہیں تو اُنھیں کمیشن کی 'فائنڈنگز' پر بھی متفق ہونا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ 'ہم نے آج سے چھ ماہ قبل ہی الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کے لیے سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا۔اگر آج کمیشن بنتا ہے تو یہ ہماری ہی تجویز کی توثیق ہو گا۔'

وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت آئین کا احترام کرتی ہے اور آئین اعلیٰ عدالیہ اور محترم ججوں کے احترام کا درس دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'یکم نومبر کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کے معاملے پر کارروائی کا باقاعدہ آغاز کیا ہے اور چاہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس مخمصے کا فیصلہ ہو۔'

خواجہ آصف نے کہا کہ اب جب معاملہ عدالت میں ہے تو سڑکوں پر احتجاج کو کوئی جواز موجود نہیں ہے اور عدالت قوم کو اس احتجاج کی سیاست سے نجات دلوائے۔

اسی بارے میں