سیکشن 144 ظالمانہ قانون ہے، حکومت فوری طور پر زیر حراست افراد کو رہا کرے: ایمنسٹی

پی ٹی آئی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

عالمی تنظیم برائے انسانی حقوق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اپوزیشن کے حراست میں لیے گئے درجنوں کارکنان کو بغیر کسی شرط کے فوری طور پر رہا کیا جائے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ لوگوں کی نقل و حمل میں رکاوٹوں کو ہٹایا جائے اور لوگوں کو پرامن جلسے کی اجازت دی جائے۔

پرویز خٹک کا جلوس برہان پر، پولیس کی جانب سے شیلنگ

پنجاب میں مسلسل دوسرے روز بھی گرفتاریاں جاری

'وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو روکنا انتہائی مذموم اقدام ہے'

تنظیم کی جنوبی ایشیا کی ڈائریکٹر چمپا پٹیل نے یہ بیان ایسے وقت دیا ہے جب وفاقی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دو نومبر کو اسلام آباد بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں جگہ جگہ کنٹینر لگا کر راستے بند کر دیے ہیں اور اس کے علاوہ پشاور اسلام آباد موٹر وے کو بند کردیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کو مصدقہ رپورٹس ملی ہیں کہ سیکشن 144 کے تحت سینکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

'اس کریک ڈاؤن کا کوئی جواز نہیں ہے۔ آئین پاکستان عوام کو جلسے، اظہار اور نقل و حمل کی اجازت دیتا ہے۔ انتظامیہ بغیر کسی شرط کے فوری طور پر حراست میں لیے افراد کو رہا کرے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چپما پٹیل نے بیان میں مزید کہا ہے کہ سیکشن 144 نو آبادیاتی زمانے کا ظالمانہ قانون ہے اور یہ بات واضح ہے کہ ایسے قانون کی حقوق کی پاسداری کرنے والے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔اس قانون کو لوگوں کو پرامن جلسے سے روکنے کے لیے کبھی نہیں استعمال کرنا چاہیے اور اس قانون کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر ہنگامے ہوتے ہیں تو حکومت کو ہنگامے کرنے والوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔ چند افراد کے باعث اکثریت کے حق کو پامال کرنا حکومت پاکستان کی بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ذمہ داری کی خلاف ورزی ہے۔'

اسی بارے میں