شربت گلہ کی ضمانت آج بھی نہ ہو سکی

شربت تصویر کے کاپی رائٹ Huffington Post

ایک تصویر سے دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرنے والی افغان خاتون شربت گلہ کی آج ضمانت پر رہائی نہیں ہو سکی اب فیصلہ کل یعنی بدھ کے روز متوقع ہے۔

جعلی شناختی کارڈ کے الزام میں گرفتار شربت گلہ کی ضمانت کی درخواست پر آج پشاور کے علاقے حیات آباد میں قائم خصوصی عدالت میں سماعت ہوئی۔

شربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی اور اس تصویر کو میگزین کی تاریخ کی مشہور ترین تصویر قرار دیا گیا تھا۔

آج کارروائی میں استغاثہ اور وکیل صفائی نے ضمانت پر رہائی کے خلاف اور حق میں دلائل دیے جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ وکلا کے مطابق یہ فیصلہ کل یعنی بدھ کے روز سنایا جائے گا۔

٭ ’افغان جنگ کی مونا لیزا‘ جعلی شناختی کارڈ پر گرفتار

٭ ’افغان جنگ کی مونا لیزا‘ جعلی شناختی کارڈ پر گرفتار

شربت گلہ کے وکیل افغان سفارت خانے کے قانونی مشیر مبشر نذر ایڈووکیٹ خصوصی طور پر اسلام آباد سے یہاں پشاور پہنچے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ آج دونوں جانب سے دلائل عدالت کے سامنے پیش کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شربت بی بی کو آج عدالت میں پیش نہیں کیا جا سکا اب کل یعنی بدھ کے روز ہی ضمانت کی درخواست بارے فیصلہ سنایا جائے گا۔

شربت گلہ کی ضمانت کی درخواست جمعے کے روز داخل کی گئی تھی اور اس درخواست کی سماعت کے لیے آج کی تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ DPA

آج عدالت میں افغان سفارت خانے اور پشاور میں افغان قونصل خانے کے حکام موجود تھے۔ شربت گلہ کی رہائی کے لیے افغان سفارت خانے کی جانب سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔

شربت گلہ کو چھ روز قبل یعنی 26 اکتوبر کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد عدالت نے شربت گلہ کو جیل بھیج دیا تھا۔

شربت گلہ کی گرفتاری سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے نادرا کے اہم اہلکاروں کو بھی شربت گلہ کے لیے جعلی شناختی کارڈ بنانے کے الزام میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اتوار کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی توجہ اس معاملے پر مبذول کروائی گئی تو انھوں نے موقعے پر ہی اپنے عملے کو شربت گلہ کی ضمانت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ 'مجھے اس کیس کو خود دیکھنا ہو گا کیونکہ شربت گلہ ایک خاتون ہیں اور اس مقدمے کو انسانی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے۔'

انھوں نے کہا کہ اگر شربت گلہ کے خلاف الزامات واپس لیے جائیں یا انھیں ملک بدر کر دیا جائے تو ہمیں ان افسران کے خلاف بھی کیس واپس لینے پڑیں گے جنھوں نے شربت گلہ کو جعلی قومی شناختی کارڈ جاری کیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ 'میں ان افسران کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔'

اس سے قبل افغان حکام نے بھی شربت گلہ کی رہائی کے لیے کوششیں کی تھیں اور ان کی گرفتاری کی خبر سامنے آنے کے بعد انھیں قانونی مدد فراہم کی گئی ہے۔

اسلام آباد میں افغان سفیر حضرت عمر زاخیلوال کے مطابق افغان سفارت خانے کے قونصلروں اور وکلا کو پشاور بھیجا گیا تاکہ وہ شربت گلہ کی رہائی کے لیے ہر ممکن قانونی کوششیں کریں۔

اسی بارے میں