انصاف کا تقاضا ہے کہ احتساب کا عمل وزیرِاعظم سے شروع ہو: سراج الحق

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI/GETTY IMAGES

سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام کے فیصلے کو امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے درست سمت میں قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ احتساب کا عمل وزیرِاعظم اور ان کے خاندان سے شروع کیا جائے۔

سراج الحق کا بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پانامہ لیکس میں وزیرِاعظم اور ان کے خاندان کا نام سامنے آنے پر ان کی جماعت کا شروع سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سے اس کی تحقیقات کروائی جائیں۔

امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا یہ معاملہ پہلے حل ہو جانا چاہیے تھا لیکن حکومت ایوان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اس حوالے سے پیش کی گئ تجاویز کو مسلسل نظر انداز کرتی آئی ہے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ 'حکومت نے قوم کے سات ماہ ضائع کیے ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اسے سڑکوں پر حل نہیں کیا جاسکتا اور سپریم کورٹ کا فیصلہ مسئلے کے حل کی طرف ایک اہم قدم ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی جماعت اگلی سماعت سے قبل اس حوالے سے سپریم کورٹ میں اپنے ٹی او آرز بھی جمع کروائے گی۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں سپریم کورٹ قومی احتساب بیورو سے مدد لے سکتی ہے اور معاملے کی تحقیقات کے ساتھ عدالت کو اس سلسلے میں مقدمہ بھی چلانا چاہیے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ قومی دولت لوٹنے والے خواہ حکومت میں ہوں یا حزبِ مخالف میں احتساب سب کا ہونا چاہیے لیکن انصاف کا تقاضہ ہے کہ اس کا آغاز حکمرانوں سے ہو۔

ایک سوال کے جواب پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ہماری عدالتی تاریخ زیادہ روشن نہیں ہے ، ماضی میں نظریہ ضرورت کے تحت جو فیصلے آئے ہیں، ان سے ہمیشہ ملک اور قوم کا نقصان ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا ہماری خواہش ہے کہ عدالت نظریہ ضرورت کو دفن کر کے بھرپور طریقے سے اس معاملے کی تحقیقات کرے اور قوم کی رہنمائی کرے۔