ڈاکٹر عاصم حسین کی ضمانت منظور

ڈاکٹر عاصم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سندھ ہائی کورٹ نے دہشتگردوں اور ٹارگٹ کلروں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے مقدمے میں سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین، انیس قائم خانی اور راؤف صدیقی کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس عبدالمالک نے منگل کو چاروں ملزمان کی درخواستوں پر وکلا کے دلائل سننے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ البتہ عدالت نے ملزمان کو بیرون ملک سفر کرنے کی اجازت نہں دی اور حکم جاری کیا کہ وہ اپنے پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

عدالت نے اپنے حکم میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کو ہدایت کی ہے کہ اس مقدمہ کا فیصلہ دو ماہ کے اندر کر دیا جائے۔

سندھ ہائی کورٹ نے منگل کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عاصم حسین، پاک سرزمین پارٹی کے رہنما انیس قائم خانی، ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی راؤف صدیقی اور پاسبان کے عمثان معظم کی درخواستوں کو سماعت کی تو ڈاکٹر عاصم کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر اور جوائنٹ انٹیروگیشن رپورٹ کی بنیاد پر ڈاکٹر عاصم حسین گذشتہ ایک سال سے قید میں ہیں۔

انھوں نے اپنا موقف دہرایا کہ مقدمے کے تفتیشی افسر نے ڈاکٹر عاصم کو بےقصور قرار دیا تھا لیکن ان کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا گیا۔ اس موقعے پر انھوں نے ڈاکٹر عاصم حسین کی میڈیکل رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر عاصم حسین بیمار ہیں اور جناح ہپستال میں زیر علاج ہیں۔ جہاں ان کی فزیو تھریپی کی جا رہی ہے۔

لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ فزیو تھریپی فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہی اور ان کا آپریشن لازمی ہے اور آپریشن تک ہائڈرو تھراپی ضروری ہے جو سہولت صرف ضیاالدین ہپستال میں دستیاب ہے، تاہم انھیں صرف اس لیے وہاں منتقل نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ ڈاکٹر عاصم حسین کا اپنا ہپستال ہے۔

انھوں نے عدالت کو انسانی بنیادوں پر ضمانت منظور کرنے کی درخواست کی اور بتایا کہ ملک کے نامور ڈاکٹر کہہ چکے ہیں کہ ڈاکٹر عاصم کی زندگی کو خطرہ ہے اور ان کی بیوی بھی کینسر کی مریضہ اور آخری سٹیج پر ہیں لہٰذا ڈاکٹر عام کی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ اپنا علاج کراو سکیں۔

اس موقعے پر انیس قائم خانی کے وکیل الیاس خان نے دلائل دیے کہ انیس قائم خانی کے خلاف دہشت گروں کا رعایتی نرخوں پر علاج کرانے کا الزام عائد کیا گیا ہے لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ انھوں نے کس دہشت گرد کا علاج کرایا ہے اور حکومت کے پاس ان کے موکل کے خلاف ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں ہے جس کی بنا پر ان پر یہ الزام ثابت ہو سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ وہ مقدمے کے گواہ یوسف ستار پر دباؤ ڈال سکتے ہیں لیکن اس خدشے کی بنیاد پر کسی کو جیل میں نہیں رکھا نہیں جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراچی کے منتخب میئر وسیم اختر (بائیں) بھی دہشت گروں کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے مقدمے میں گرفتار ہیں

سابق صوبائی وزیر راؤف صدیقی کے وکیل نے بھی تقریباً یہ موقف اختیار کیا اور کہا کہ ان کے موکل پر دہشت گردوں کے علاج کا الزام ہے لیکن کسی ایک دہشت گرد کا نام نہیں دیا گیا نہ ہی چالان میں نام شامل ہے، اس صورت حال میں راؤف صدیقی پر یہ الزام حقییقت پر مبنی نہیں ہے۔

سرکاری وکیل نے ضمانت کی مخالفت کی اور اپنا موقف دہرایا کہ ڈاکٹر عاصم حسین، راؤف صدیقی، انیس قائم خانی اور عثمان معظم زخمی دہشت گردوں کو ضیاالدین ہپستال میں علاج کا بندوست کرتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر عاصم حسین جوئنٹ انٹروگیشن ٹیم کے روبرو اعتراف جرم بھی کر چکے ہیں اگر ملزمان کو ضمانت دی گئی تو وہ مقدمے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد چاروں ملزمان کی پانچ پانچ لاکھ رپے کے ذاتی مچلکے کے بدلے میں ضمانت منظور کر لی اور ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔

واضح رہے کہ دہشت گروں کے علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے مقدمے میں ڈاکٹر عاصم حسین، انیس قائم خانی، رؤف صدیقی اور عثمان معظم سمیت کراچی کے منتخب میئر ویسم اختر اور پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل بھی گرفتار ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں