مہمند ایجنسی: فوج کو راشن پہنچانے والا شخص ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص سکیورٹی فورسز کے لیے راشن لے جانے کا کام کرتا تھا

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے لیے راشن لے جانے والی گاڑی پر بم حملہ کیا گیا ہے جس میں ایک شخص ہلاک ہوگیا ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ مہمند کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی صبح مہمند ایجنسی کی دور افتادہ تحصیل بائیزئی میں کڈا خیل کے مقام پر پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو راشن لے جانے والی ایک کار کو سڑک کے کنارے نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص عام شہری تھا جو سکیورٹی فورسز کے لیے راشن لے جانے کا کام کرتا تھا۔

مہمند ایجنسی میں پچھلے چند ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز، حکومت حامی قبائلی مشران اور امن کمیٹیوں کے رضاکاروں پر حملوں میں مسلسل تیزی دیکھی جارہی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ اور مقامی ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اس عرصے کے دوران مختلف واقعات میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

تقربناً ڈیڑہ ماہ قبل انبار کے علاقے میں مسجد پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم سے کم 36 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں اکثریت حکومتی حامی امن کمیٹیوں کے رضاکار اور عام شہری شامل تھے۔

اس کے علاوہ ایجنسی بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے متعداد واقعات پیش آئے ہیں جس میں غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایجنسی بھر میں بڑھتے ہوئے بم حملوں کے واقعات کے خوف کے باعث اب عام شہریوں نے دور افتادہ علاقوں کی طرف جانا چھوڑ دیا ہے۔

مقامی ذرائع کہتے ہیں کہ سکیورٹی اہلکار روزانہ ایجنسی کی کسی نہ کسی علاقے میں سڑک کے کنارے بم ناکارہ بناتے ہے جس سے علاقے میں خوف کی کفیت بڑھتی جارہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایجنسی بھر میں بڑھتے ہوئے بم حملوں کے واقعات کے خوف کے باعث اب عام شہریوں نے دور افتادہ علاقوں کی طرف جانا چھوڑ دیا ہے

واضح رہے کہ دو دن پہلے مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ اور مقامی قبائل نے تحصیل پنڈیالی کے علاقے میں ایک کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شدت پسندوں کے پانچ مکانات کو مسمار کردیا تھا۔

اس سے پہلے بھی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے کئی مکانات کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

ادھر وفاق کے زیرانتظام ایک اور قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں پاکستان افغان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کی طرف سے سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملہ کیا گیا ہے جس میں ایک اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری طرف کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ایک دھڑے شہریار محسود گروپ نے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں سکیورٹی فورسز پر گذشتہ روز ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعوی کیا ہے۔

یاد رہے کہ منگل کو ہونے والے اس حملے میں فوج کے ایک میجر ہلاک اور دس سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں