’انڈین سفارتخانے کے آٹھ ملازمین را اور آئی بی کے لیے سرگرم‘

دفتر خارجہ
Image caption پاکستان اور انڈیا سفارتی سطح پر حالیہ دنوں ایک دوسرے کے خلاف کافی سرگرم ہیں

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں واقع انڈین سفارت خانے کے آٹھ اہلکاروں کے نام ظاہر کرتے ہوئے ان پر انڈین خفیہ ادارے را اور انٹیلجنس بیورو کے لیے کام کرنے کا الزم عائد کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا کی جانب سے یہ معلومات جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دی گئیں۔

٭ پاکستان میں ’را‘ کے نیٹ ورک کے انکشاف کا دعویٰ

پاکستانی حکام نے جن چھ انڈین اہلکاروں پر مبینہ طور پر را کے لیے کام کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں ان میں کمرشل قونصلر راجیش کمار اگنی ہوتری، فرسٹ سیکرٹری کمرشل انورگ سنگھ، ویزہ اتاشی امردیپ سنگھ بھٹی کے علاوہ عملے کے ارکان دھرمیندرا سوڈھی، وجے کمار ورما اور مادھون نندا کمار شامل ہیں۔

بیان میں راجیش کمار اگنی ہوتری کو پاکستان میں انڈین خفیہ ادارے کا سٹیشن چیف قرار دیا گیا ہے۔

ان کے علاوہ مبینہ طور پر انڈین انٹیلیجنس بیورو کے لیے کام کرنے والے دو اہلکاروں میں فرسٹ سیکریٹری پریس اینڈ انفارمیشن بلبیر سنگھ اور پرسنل ویلفیئر آفسر جیا بالن سینتیل کے نام شامل ہیں۔

بیان میں بلبیر سنگھ کو پاکستان میں آئی بی کا سٹیشن چیف بتایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چند دن قبل ناپسدیدہ قرار دے کر ملک بدر کیے جانے والے انڈین سفارتی اہلکار سرجیت سنگھ بھی بلبیر سنگھ کی قیادت میں آئی بی کے لے کام کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

بیان میں کہا گیا کہ سرجیت عبدالحفیظ کے نام سے جعلی شناخت استعمال کر رہے تھے اور خود کو مقامی موبائل کمپنی وارد کا ملازم ظاہر کرتے تھے۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں گرفتار خفیہ ایجنسی را کے مبینہ افسر کلبھوشن یادیو کے انکشاف کے مطابق انڈیا نہ صرف نہ صرف دہشت گردی کی سرگرمیوں اور ان کو مالی معاونت فراہم میں ملوث پایا گیا بلکہ 15 اگست کو بنگلہ دیش کے دورے کے دوران اور اس سے پہلے اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر اس کی تصدیق کی تھی۔

اس کے علاوہ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ انڈیا اپنے مذموم مقاصد کے لیے سفارتی مشنز کو استعمال کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے انڈیا کی جانب سے اس کے دہلی میں ہائی کمیشن کے اہلکاروں کی گرفتاری اور ملک بدری کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا نے سفارتی اصولوں اور دو خودمختار ممالک کے درمیان تعلقات کے قیام کے ضابطہ اخلاق کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ جبکہ پاکستان نے تحمل، صبر اور متانت کی پالیسی برقرار رکھی ہے جس دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ را کے نیٹ ورک کا سراغ پاکستانی اداروں کی تحویل میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا افسر کلبھوشن یادیو کے انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے

دنیا کے متعدد ممالک نے اس پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انڈیا نے ہمارے سفارتی عملے کی گرفتار اور ان پر تشدد سے سفارتی اصولوں اور ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی۔

اپنی سکیورٹی ایجنسیوں کے ہمراہ، جو ہر وقت ہر کسی کی نگرانی کرتے رہتے ہیں، یہ جانتے تھے کہ محمود اختر ہائی کمیشن کے اہلکار ہیں لیکن انھوں نے ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کی۔

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات اس وقت انتہائی کشیدہ ہیں جہاں ایک طرف دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان ایل او سی اور ورکن باؤنڈری پر جھڑپیں ہو رہی ہیں تو وہیں سفارتی محاذ بھر گرم ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کے سفارتی عملے کو جاسوسی کے الزامات کے تحت ملک بدر کر رہے ہیں۔

چند دن قبل نئی دہلی میں انڈین حکام نے بھی پاکستانی سفارتخانے کے ملازمین پر پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے اپنے چھ اہلکاروں اور عملے کے ارکان کو واپس بلایا ہے۔آ

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں