’یو ٹرن کا غصہ سوشل میڈیا پر‘

تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان یومِ تشکر کےجلسے سے خطاب کرتے ہوئے

سوشلستان میں اس ہفتے پی ٹی آئی کے احتجاج اور اس کے خلاف چلنے والے ٹرینڈز سرِفہرست رہے بلکہ اس وقت بھی اگر ہم صفِ اول کے ٹرینڈز پر نظر ڈالیں تو ہمیں اسی قسم کے ٹرینڈز اب بھی دکھائی دیتے ہیں مگر یہ سب تو 'تنخواہ دار ٹوئٹر جہادیوں' کے چلائے ہوئے ہیں مگر اس کے پیچھے چھپی اور بھی کہانیاں ہیں۔

'پی ٹی آئی کی قیادت سے نالاں نوجوان'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ٹی آئی کے کارکن کی ٹویٹ

پی ٹی آئی کے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے اعلان اور منصوبے اور پھر سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے کے بعد 'یو ٹرن' نے پی ٹی آئی کے بہت سے کارکنوں کو بد دل کیا جو کھلے عام اب قیادت کے فیصلوں اور بہت سی باتوں پر تبصرے کر رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی ٹویٹس پر نظر ڈالنے اور چند ایسی شخصیات سے بات کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اندرونِ خانہ قیادت کی سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے کیا چل رہا ہے۔

جہاں پی ٹی آئی کے سرگرم کارکن لاک ڈاؤن پر ’یو ٹرن‘ کے حوالے سے سوالات کر رہے ہیں وہیں عمران خان کی سیاست پر بھی اب کھلے عام اعتراضات کیے جا رہے ہیں اور اعتراض کرنے والے عام کارکن نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے سرگرم کارکن ہیں جو مرکزی رہنماؤں کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بہت متحرک رہے ہیں۔

جیسا کہ دانش خان جو ایک سینیئر رہنما کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں نے یکم نومبر کو ٹویٹ کی کہ 'وہ وقت جب عمران خان چھٹیاں لیں اور برطانیہ چلے جائیں ہمیشہ کے لیے کیونکہ انھوں نے اس ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ بہت کھلواڑ کر لیا ہے۔'

جس کے بعد انھوں نے لکھا 'میں نے اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے جسے زبانی طور پر قبول کر لیا گیا ہے کیونکہ عمران خان کو میری اُن کے میگنا کارٹا والے بیان کے خلاف ٹویٹس پسند نہیں آئیں۔' یہ واضح نہیں کہ استعفیٰ پارٹی کی رکنیت سے ہی دیا ہے یا کسی عہدے سے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ٹی آئی کے کارکن کی ٹویٹ
تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پی ٹی آئی کے کارکن کی ٹویٹ

دانش خان نے عمران خان پر اعتراض کیا تھا کہ 'آپ کیسے کسی ایسے شخص پر اعتبار کر سکتے ہیں جو مدینہ کی ریاست کی باتیں کرتا تھا تاکہ عوام الناس کی توجہ حاصل کر سکے اور اب میگنا کارٹا کی باتیں کرتا ہے۔ یہ کیسے ہمارے لیے کچھ کر سکے گا؟'

پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی کی جانب سے سپریم کورٹ کے سامنے دو کارکنوں کی ہلاکت کی بات کی جس پر پی ٹی آئی ہی کے کارکنوں نے سوال اٹھایا کہ پارٹی کی انتظامیہ اتنی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیسے کر سکتی ہے؟

کیونکہ پشاور سے ایک صاحب نے ٹویٹ کی کہ 'شوکت یوسفزئی اور وزیرِقانون خیبر پختونخوا نے کہ ایک کارکن کی ہلاکت ہوئی ہے احتجاج پر شیلنگ کے نتیجے میں دو بجے جنازہ تھا جب ہم تہکال پہنچے تو کوئی بھی ہلاک نہیں تھا وہاں۔'

ایک اور ٹویٹ میں لکھا گیا 'تحریکِ انصاف کے اسلام آباد کے لاک ڈاؤن کے امتحان نے پارٹی کے گفتار اور اصلی غازیوں کی نشاندہی کر دی ہے۔'

ایک کارکن نے نام نہ بتانے کی شرط پر بتایا کہ اس وقت پارٹی کے اندر ایک سے زیادہ سوشل میڈیا کے گروہ متحرک ہیں اور سب ایک دوسرے پر بازی لیجانے کے لیے وسائل کا استعمال کرتے ہیں اور پارٹی قیادت اس معاملے پر بے بس ہے۔

حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے پارٹی قیادت ایسے چند اکاؤنٹس سے لاتعلقی کا اعلان کر چکی ہے مگر ان کے اثر رسوخ کے آگے بے بس ہے کیونکہ ایسے افراد کا قیادت کے ساتھ نظر آنا کیا معنی رکھتا ہے؟ لاتعقلی یا بے بسی؟

اس ہفتے کا تعارف

Image caption عورت س نفرت کیوں؟

اس ہفتے ہم ذکر کریں گے ساٹھ منٹ فلم فیسٹیول کا جو نوجوانوں کی ایک منٹ کی فلموں کا میلہ ہر سال سجاتے ہیں۔ اس بار سکسٹی سیکنڈ فلم فیسٹیول بی بی سی اردو کے ساتھ مل کر غیرت کے نام پر قتل کے حوالے سے مختصر دورنیے کی ویڈیوز کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اگر آپ بھی اس میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو اس لنک پر کلک حاصل کر سکتےہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گڈانی میں حادثے کا شکار ہونے والے ٹینکر میں کتنے مزدور تھے؟ کسی کو پتا نہیں
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پی ٹی آئی کے جلسے کی سب سے اپم بات خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت اور ان کے لیے زبردست انتظامات کیے گئے تھِے