’تقسیم کے وقت ہجرت کا تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا‘

Image caption حمیدہ کھوڑو نے بتایا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ انڈیا سے ہجرت ہوگی کیونکہ صرف پنجاب ایسا صوبہ تھا جس کا بٹورا ہوا تھا

سندھ کی تاریخ نویس ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے سیاست دانوں کو اندازہ نہیں تھا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت اتنے پیمانے پر ہجرت ہوگی اور اس حوالے سے فریقین کے درمیان کوئی تحریری معاہدہ بھی نہیں ہوا تھا۔

کراچی میں پہلے ’سندھ لٹریچر فیسٹول‘ میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے برطانوی راج کی تاریخ اور قیام پاکستان اور اس کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

ان دنوں میں ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو کے والد ایوب کھوڑو، عبداللہ ہارون اور جی ایم سید سندھ کی سیاست میں سرگرم تھے۔ حمیدہ کھوڑو نے بتایا کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا کہ انڈیا سے ہجرت ہوگی کیونکہ صرف پنجاب ایسا صوبہ تھا جس کا بٹورا ہوا اس لیے وہاں سے ہجرت کا امکان تھا لیکن سندھ کے اس وقت کے سیاست دانوں کو بلکل ہی اندازہ نہیں تھا کہ دوسرے علاقوں سے اس قدر نقل مکانی ہوگی کہ یہاں کی سماجی، سیاسی اور معاشی صورتحال تبدیل ہوجائے گی۔

Image caption سندھ کے ایک سیاسی خاندان ہارون فیملی کے فرد اور پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ حسین ہارون نے قیام پاکستان کی تاریخ اور سندھ کی صورتحال پر بات کی۔

سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی تحریک اور محمد علی جناح کے بنیادی نکات میں اس کے ذکر پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بمبئی میں شامل ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگوں کو کئی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا، اگر کوئی میٹرک کا امتحان دینا چاہتا تھا تو اس کو بحری جہاز پر سوار ہو کر بمبئی جانا پڑتا تھا۔

انگریز دور میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے قیام پر تبصرہ کرتے ہوئے حمیدہ کھوڑو نے کہا کہ انگریز سندھ میں یونیورسٹی بنانے کے لیے تیار نہیں تھا وہ کہتے تھے کہ پہلے پڑھے لکھے لوگ تیار کریں بعد میں یونیورسٹی کھولیں گے۔ بقول ان کے سندھ میں جو انگریز افسران تعینات تھے وہ دوسرے درجے کی حیثیت رکھتے تھے اور سندھ کو صرف شکار گاہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

Image caption فیسٹول کےدوران گلوکارہ نتاشا کی پرفارمنس

ایک سوال کے جواب میں حمیدہ کھوڑو کا کہنا تھا کہ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے وقت ایسی صورتحال نہیں تھی کہ اس وقت کے سیاست دان سندھ کی آزادی کا مطالبہ کرتے اور یہ تاثر بھی درست نہیں ہے کہ سندھ کو پاکستان میں شامل ہونے کے علاوہ آزادی کا بھی آپشن دیا گیا تھا۔

’ بلوچستان ریاست سے برطانیہ کا معاہدہ تھا کہ وہ ہندوستان سے نکلنے پر بلوچستان کو آزاد کریں گے، اس معاہدے کی یاد دہانی کے لیے خان آف قلات نے محمد علی جناح کو اپنا وکیل بناکر لندن بھیجا تھا لیکن ان کی ایک بھی نہیں سنی گئی اور انھیں انڈیا یا پاکستان میں شامل ہونے کا مشورہ دیا گیا۔ سندھ کے سیاست دانوں کو اندازہ تھا کہ ان کا مطالبہ تسلیم نہیں ہوسکتا اس لیے انھوں نے ایسا کوئی مطالبہ ہی نہیں کیا۔

Image caption کراچی کے مقامی ہوٹل میں جاری تین روز سندھ لٹریچر فیسیٹول کا سنیچر کو دوسرا روز تھا

ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو نے قیام پاکستان کے بعد کی سیاست پر تفصیلی بات کی اور بتایا کہ وفاقی دارالحکومت کراچی اور ملتان میں بنانے کی تجویز تھی لیکن اسے کراچی میں بنانے کا فیصلہ ہوا جس کے لیے حکومت سندھ نے بیرکس اور دفاتر بنائے لیکن بعد میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بات کی گئی جس پر اس وقت کے سیاست دانوں نے کہا کہ برطانیہ راج میں کلکتہ اگر بنگال اور انڈیا کا دارالحکومت ہوسکتا تو کراچی کیوں نہیں۔

حمیدہ کھوڑو کے والد ایوب کھوڑو سندھ کے وزیر اعلیٰ رہے چکے ہیں، حمیدہ کھوڑو نے والد کے لیاقت علی خان اور محمد علی جناح کے ساتھ اختلاف کا بھی ذکر کیا، انھوں نے بتایا کہ ایک اجلاس میں لیاقت علی خان نے شکوہ کیا کہ ان کے زرعی فارم کو پانی نہیں مل رہا جس پر ان کے والد نے انھیں بتایا کہ یہاں اتنی بڑی آبادی جو آئی ہے اس کو پینے کے لیے پانی دیا جارہا ہے۔

حمیدہ کھوڑو کے مطابق جب پاکستان نے کمشیر میں پہلی لڑائی لڑی تو وفاقی حکومت نے حکومت سندھ کو پیسے دینے کے لیے کہا ان کے والد نے اعتراض کیا کہ یہ پیسے یہاں کی تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے ہیں وہ نہیں دے سکتے جس کے بعد مطوبہ رقم قرضے کے طور پر وفاق پاکستان کو دی گئی اس کے بعد وہ واپسی ہوئی یا نہیں معلوم نہیں۔ ان کے مطابق اسی کشیدکی کی وجہ سے محمد علی جناح کے کہنے پر ان کے والد کی حکومت برطرف کردی گئی۔

Image caption سندھی زبان کے مسائل پر جی اے الانا، شوکت شورو، مظہر الحق صدیقی سمیت دیگر ادیبوں، دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا

کراچی کے مقامی ہوٹل میں جاری تین روز سندھ لٹریچر فیسیٹول کا سنیچر کو دوسرا روز تھا، جس میں مختلف نشتوں میں صحافی وسعت اللہ خان نے میڈیا اور سلطانہ صدیقی نے ڈرامے اور فلم پر روشنی ڈالی، اس کے علاہ سندھی زبان کے مسائل پر جی اے الانا، شوکت شورو، مظہر الحق صدیقی سمیت دیگر ادیبوں، دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ شام کو مشاعرے اور محفل موسقی کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔

سندھ کے ایک اور سیاسی خاندان ہارون فیملی کے فرد اور پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندہ حسین ہارون نے قیام پاکستان کی تاریخ اور سندھ کی صورتحال پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی جنگ میں کانگریس نے برطانوی راج کی مدد نہیں کی تھی اس لیے وہ پورا انڈیا کانگریس کو نہیں دینا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اس کو سزا دینے لیے انڈیا کی تقیسم کا پلان بنایا۔

حسین ہارون نے اپنے والد کی یادداشتیں بیان کرنے ہوئے بتایا کہ آغا خان انڈیا کے پہلے آئین کے لیے لندن گول میز کانفرنس کے سربراہ کیسے بنے۔

انھوں نے بتایا کہ محمد علی جناح اور سلطان محمود آغا خان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ان کے والد عبداللہ ہارون دونوں کے مشترکہ دوست تھے، آغا خان نے انھیں بلایا اور کہا کہ آپ ہمارے مشترکہ دوست ہیں جناح کو کہیں کے پاکستان کی تحریک جاری رکھے اور انھوں نے یہ پیغام جناح کو پہنچایا، جس پر جناح نے انہیں کہا کہ آغا خان کو کہو کو لندن میں گول میز کانفرنس کی سربراہی کریں۔

حسین ہارون کے مطابق جب ان کے والد نے اس بات سے آغا خان کو آگاہ کیا تو انھوں نے کہا کہ گاندھی جی اکثریت کے رہنما ہیں اس لیے انہیں اس وفد کی قیادت کرنی چاہیے۔ ’جب حتمی فیصلے کے لیے اجلاس جاری تھا تو جناح کام کا کہہ کر اٹھ گئے، آغا خان نے گاندھی کا نام تجویز کیا جس پر گاندھی نے کہا کہ آغا خان سے بڑی شخصیت کوئی اور ہے کیا۔ جس پر آغا خان نے کہا کہ اگر گاندھی جی یہ سوچتے ہیں تو وہ اس سربراہی کے لیے راضی ہیں۔‘