’صوابی میں جھڑپ، دو دہشت گرد اور ایک اہلکار ہلاک ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جھڑپ میں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک زخمی ہے جنھیں طبی امداد کے لیے صوابی کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی ایک جھڑپ میں دو دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ جھڑپ کے دوران ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا ہے۔

٭ پولیو ٹیم کے محافظ پولیس اہلکاروں پر بم حملہ، ایک ہلاک

مقامی صحافی انور شاہ کے مطابق صوابی کے ضلعی پولیس افسر جاوید اقبال نے بتایا کہ جھڑپ ٹوپی کے علاقے مینئی میں ہوئی ہیں جس میں دو دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق اس جھڑپ میں ایلیٹ فورس کا ایک اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے جبکہ ایک زخمی ہے جنھیں طبی امداد کے لیے صوابی کے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ضلعی پولیس افسر کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے پولیس مقابلے کے دوران ایک دکان میں پناہ لی تھی اور اس دکان میں چار شہریوں جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا کو یرغمال بنالیا تھا تاہم پولیس نے ان چاروں شہریوں کو بحفاظت وہاں سے نکالا ہیں۔

ڈی، پی، او کے مطابق جھڑپ کے دوران پولیس نے دہشت گردوں پر دستی بم پیھنکا جس سے دکان میں آگ لگ گئی اور وہاں موجود دونوں دہشت گرد جل کر ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد اب یہ شناخت کرنا مشکل ہے کہ آیا دہشت گرد مقامی تھے یا غیر مقامی تھے تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کے زریعے یہ معلومات حاصل کی جائیگی

صوابی پولیس کے پی ار او لیاقت نے بتایا کہ مقابلہ تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا جس میں پشاور سے آنے والے سپیشل کمبیٹ یونٹ نے بھی حصہ لیا ان کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع خفیہ ذرائع سے ملی تھی۔ ہلاک ہونے الے دہشت گردوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔

پی آر او لیاقت نے مزید بتایا کہ کچھ عرصہ قبل اس علاقے میں ایک پولیس اہلکار ارشد کو بھی دہشت گردوں نے گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا اور صوابی کے دو دیہات مینئی اور ملک آباد میں دہشت گردی کے واقعات ذیادہ رونما ہورہے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی صوابی میں پولیس اہلکاروں اور انسداد پولیو کی ٹیموں پر شدت پسند حملے ہوتے رہے ہیں جس میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں