کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ، وزیراعلیٰ نے وضاحت طلب کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کراچی میں حالیہ دنوں کے دوران پیش آنے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ ڈی آئی جیز سے ان کے متعلقہ علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے میں ناکامی پر وضاحت طلب کر لی ہے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں امن و امان سے متعلق ایک اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ سمیت چیف سیکریٹری سندھ محمد صدیق میمن، آئی جی پولیس سندھ اے ڈی خواجہ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی اور کئی دیگر افسران موجود تھے۔

بیان کے مطابق سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ’یہ کس طرح ممکن ہے کہ ٹارگٹ کلر آتے ہیں اور لوگوں کو قتل کر کے آسانی سے فرار ہو جاتے ہیں۔‘

اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گذشتہ روز ٹارگٹ کلنگ کرنے والا گروپ ایک ہی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں کراچی میں تین مختلف پرتشدد واقعات میں دو پیش اماموں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے جن کے بارے میں کالعدم اہل سنت و الجماعت کا کہنا تھا کہ پانچوں مقتولین ان کے کارکن تھے۔

جبکہ گذشتہ روز سنیچر کو کراچی کے علاقے موسمیات میں فائرنگ کے نتیجے میں کامران کاظمی ہلاک ہوگئے تھے جن کا تعلق شیعہ مسلک سے بتایا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران مجالس پر دو بار فائرنگ اور دستی بم حملے بھی کیے جا چکے ہیں جن میں ایک بچے اور ایک ہی خاندان کے تین افراد سمیت چھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

ان واقعات کے بارے میں اجلاس کے دوران آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ نے کہا کہ ضلع وسطی اور شرقی میں ٹارگٹ کلنگ میں ملوث مجرموں کے خلاف چند ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں اور آئندہ دو دن کے اندر مجرموں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ’آج اتوار کی رات سے ہی آپریشن شروع کیا جائے میں آپ کو زیادہ وقت نہیں دے سکتا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں