پاناما کیس:’آپ نے تو ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا‘

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی تصویر کے کاپی رائٹ Supreme Court of Pakistan
Image caption چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ عوام کی بہتری کے لیے خاموش ہیں ورنہ یہ سلسلہ پٹڑی سے اتر جائے گا

سنہ 2010 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے مقدمات کی سماعت کی کوریج کے بعد آج تقریباً ساڑھے چھ برس بعد دوبارہ عدالت عظمیٰ کا رخ کیا تو جسٹس افتخار چوہدری کی تصویر کے آگے تین مزید ریٹائر ہونے والے چیف جسٹس صاحبان کی تصاویر بتا رہی تھیں کہ عدالت میں کئی تبدیلیاں آئیں اور چلی گئیں۔

کمرۂ عدالت میں ججوں کی جانب جانے والے دونوں راستے سکیورٹی اہلکاروں نے بند کیے ہوئے تھے۔ افتخار چوہدری کے زمانے میں ایسا نہیں ہوتا تھا تاہم آج شاید جذباتی سیاسی اراکین کو دور رکھنے کے لیے یہ اقدام ضروری تھا۔

سماعت کے لیے کمرہ نمبر ایک کی جانب جاتے ہوئے راستے میں پی ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری نظر آئے تو ان سے پوچھا کہ کیا توقع ہے تو ان کا انگریزی میں جواب تھا: 'نہیں معلوم کہ آج کی سماعت سے کیا توقع وابستہ کی جا سکتی ہے۔'

پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم کا حصہ بنے والے سینیئر وکیل اور سابق وفاقی وزیر بابر اعوان سماعت سے قبل اپنے ساتھیوں میں ماؤتھ فریشنر تقسیم کرتے پائے گئے۔ مقصد شاید 'فاؤل ماؤتھ' ہونے سے بچاؤ تھا۔

پاناما لیکس مقدمے کی سوموار کی سماعت نے کافی باتیں واضح کر دیں۔ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے عوامی اور میڈیائی نبض کو بھانپتے ہوئے سماعت کے آغاز پر ہی ایک بات کھل کر کہہ دی کہ عدالت عظمیٰ کی پہلی ترجیح صرف وزیر اعظم اور ان کے خاندان پر لگے الزامات کی چھان بین ہے۔ باقی ماندہ پاناما 'ملزمان' اس کیس کے فیصلے کا انتظار کریں۔

چیف جسٹس کے ریماکس بظاہر وکلا اور میڈیا کے درمیان چل رہی ایک بحث کی بھی وضاحت تھی۔

پاکستان بار کونسل کے ممبران اس معاملے پر منقسم دکھائی دیتے ہیں۔ ایک دھڑے کا خیال ہے کہ پاناما لیکس میں ایک سابق جج کا نام بھی سامنے آیا تھا تو پہلے اس عدلیہ اپنے گریبان میں جھانکے بعد میں کسی اور کی تحقیقات کرے۔ تاہم چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے واضح کیا کہ 'یہ کسی جج کے خلاف کارروائی کا فورم نہیں ہے۔'

سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بنچ کارروائی بظاہر جمہوری طریقے سے چلا رہا ہے۔ کمیشن کے قیام کا فیصلہ فریقین کے اتفاق رائے سے کیا۔ بنچ نے وکلا کے سامنے دو راستے رکھے کہ وہ یا تو کمیشن کا اعلان کر دے اور وہ اس تمام معاملے کو دیکھے یا پھر وہ خود ہی نواز شریف کی جانب سے بچوں کی مالی اور جائیداد کی جمع کرائی گئی تفصیل کی روشنی میں کوئی فیصلہ کرے۔

نہ حکومت اور نہ ہی اس کے مخالفین فی الحال کمیشن میں جانے کے حامی دکھائی دیے لہٰذا فیصلہ ہوا کہ یہی بینچ اگلی سماعت پر اس پر غور کرے گا۔

تقریبا ایلک گھنٹے سے زائد وقت جاری رہنے والی سماعت میں سنجیدگی تو حاوی رہی لیکن بعض مواقع پر مسکراہٹیں بھی دیکھنے کو ملیں۔

پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے عدالت کی توجہ حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر عوامی ٹیکس کی رقم سے اپنے دفاع میں میڈیا پر اشتہارات نشر کرنے کی جانب مبذول کروائی تو چیف جسٹس نے کہا کہ 'آپ نے تو ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ ہم اس بارے میں کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ آپ ہی اپنی اداؤں پہ غور کریں، ہم نے کچھ کیا تو شکایت ہوگی۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ جن لوگوں کا قانون سے دور کا بھی تعلق نہیں وہ تو اپنے فیصلے دے چکے ہیں۔ 'ہمارے لیے رہ کیا گیا ہے؟ عوام کی بہتری کے لیے خاموش ہیں ورنہ یہ سلسلہ پٹڑی سے اتر جائے گا۔'

جسٹس آصف کھوسہ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت ہے پریس کلب نہیں اور 'پریس کانفرنس عدالت کے اندر نہیں ہونی چاہیے۔' اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کے لیے عدالتی حکم کی ضرورت نہیں ہر شخص کو خود اس کا احساس کرنا چاہیے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ سماعت کے اختتام پر عمران خان نے تو سپریم کورٹ میں میڈیا سے بات نہیں کی لیکن بنی گالہ پہنچ کر ضرور بولے تاہم عدالت کی تلقین کے باوجود وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری نے وہیں جمع صحافیوں سے گفتگو کی۔

شیخ رشید کہاں میڈیا سے دور رہ سکتے تھے۔ انھوں نے بھی عدالت کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی بات کی اور کہا کہ ان کی جماعت الزامات ثابت ہونے پر پورے ملک میں جشن منائے گی۔

پی ٹی آئی کے عمران خان اور جماعت اسلامی کے سراج الحق سمیت حزب اختلاف کی موجودگی عدالت میں زیادہ تھی لیکن گذشتہ سماعت کے برعکس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیرِ ریلوے خواجہ سعد رفیق موجود نہیں تھے۔

پاکستانی سیاست بھی کسی انتہائی دلچسپ سنسنی سے بھری ٹی وی سیریل سے کم نہیں۔ چھوٹی سکرین پر اگر ساس بہووں کا دائمی بیر ڈرامے کی جان ہوتا ہے تو پاکستانی سیاست میں پچھلے پانچ چھ سال وزرائے اعظم اور سپریم کورٹ کے درمیان آنکھ مچولی عوام کو مسلسل لبھا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تقریبا ایلک گھنٹے سے زائد وقت جاری رہنے والی سماعت میں سنجیدگی تو حاوی رہی لیکن بعض مواقع پر مسکراہٹیں بھی دیکھنے کو ملیں

سوال یہ ہے کہ حالیہ چند برسوں میں ملک کے وزرائے اعظم کی عدالتوں میں طلبی زیادہ نہیں ہوتی جا رہی؟

پیپلز پارٹی کے دور میں تو وزیرِ اعظم کی طلبی عدالت کی توہین کے معاملات میں ہوتی رہی لیکن اس بار حزب اختلاف کے اصرار پر نواز شریف کو عدالت میں لایا جا رہا ہے۔ مبصرین کے خیال میں شاید یہ پاکستانی سیاست کی بلوغت کے اشارے ہیں۔

تاہم سپریم کورٹ کے کمرہ نمبر ایک میں پیر کو ہونے والی سماعت سے جو سمجھ میں آیا وہ یہ تھا کہ یہ بلوغت کے اشارے ہرگز نہیں۔

اگر سیاست بالغ اور سمجھدار ہوتی تو یہ معاملہ پارلیمان کے اندر طے ہو جانا چاہیے تھا۔ سیاسی بالغ نظری تو اسی وقت ہو گی جب آئین اور قانون کی بالادستی ہو اور کسی کو الزام عائد کرنے اور اس کے دفاع کے لیے عدالتوں میں آنے کی ضرورت نہ پڑے اور عدالتوں کا قیمتی وقت عام عوام کے مقدمات سننے میں گزرے۔

اسی بارے میں