شربت گلہ رہائی کے بعد واپس افغانستان جانے کی خواہشمند

شربت گلہ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شربت گلہ جیل سے رہائی کے بعد پاکستان جانا چاہتی ہیں

افغان جنگ کے دوران نیشنل جیو گرافک کے سرورق پر تصویر کی اشاعت سے مقبولیت حاصل کرنے والی افغان خاتون شربت گلہ کی افغان حکام کو حوالگی اور وطن واپسی کے ضمن میں تمام معاملات طے پاگئے ہیں جس کے تحت شربت گلہ کی مرضی کے مطابق انہیں جیل سے رہائی کے بعد افغانستان روانہ کردیا جائے گا۔

جعلی شناختی کارڈ بنوانے کے جرم میں شربت گلہ کی 15 روزہ سزا منگل کو پوری ہورہی ہے جس کے بعد توقع ہے کہ انھیں اسی دن یا اگلے روز افغانستان واپس بھیج دیا جائے گا۔

اس بات کی تصدیق افغان حکومت کی طرف سے شربت گلہ کی رہائی کےلیے پیر کو پشاور آنے والے دو رکنی وفد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہی۔

وفد میں شامل افغان قونصلیٹ کے ایک سفارتی اعلی اہلکار عبد الحمید جلیلی نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور بالخصوص تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے شربت گلہ کی رہائی کے بعد انہیں انسانی ہمدردی کے ناطے علاج کی غرض سے پشاور میں روکنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں صوبائی وزرات داخلہ کے حکام سے بات کی گئی اور یہ فیصلہ ہوا کہ اس ضمن میں شربت گلہ سے خود پوچھا جائے کہ آیا رہائی کے بعد وہ افغانستان جانا چاہتی ہے یا یہاں رکنا چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ داخلہ امور کے کچھ پاکستانی اہلکاروں کو ہسپتال بھیجا گیا جہاں ملاقات میں شربت گلہ نے رہائی کے بعد اپنی مرضی کے مطابق اپنے ملک افغانستان واپس جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

افغان سفارت کار کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بھی شربت گلہ کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہیں افغانستان واپس جانے کی اجازت دے دی ہے۔

اس سے پہلے شربت گلہ کی وطن واپسی کے عمل کو روکنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے قائدین متحرک ہو گئے تھے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ دنوں شربت گلہ کو قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک سے رابطہ کیا تھا اور ان سے کہا تھا کہ وہ شربت گلہ کی ملک بدری کو روکیں۔

اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت کو خط لکھنے کا بھی فیصلہ کیا تھا تاہم شربت گلہ کی طرف سے افغانستان واپس جانے کی ِخواہش کے اظہار کے بعد خط لکھنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

افغان سفارت کار کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ شربت گلہ کی وطن واپسی پر ان کا شاندار استقبال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں ان کی ملاقات افغان صدر اشرف غنی سے ہوگی جہاں ان کے لیے مراعات کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نیشنل جیو گرافک کے سرورق پر تصویر کی اشاعت کے بعد شربت گلہ مقبول ہو گئی تھیں

ایک سوال کے جواب میں افغان سفارت کار نے کہا کہ شربت گلہ ہیپاٹائیٹس کے مرض میں مبتلا ہیں لہذا ان کے علاج کا خاص خیال رکھا جائے گا اور اگر ضرورت پڑی تو انہیں علاج کےلیے بیرون ممالک بھیجا جائے گا۔

سفارت کار نے صوبائی حکومت اور عمران خان کی جانب سے شربت گلہ کو یہاں علاج کی غرض سے روکنے کی خواہش پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

واضح رہے کہ شربت گلہ کو پاکستان کا جعلی شناختی کارڈ رکھنے کے جرم میں گرفتار کرکے انہیں عدالت کی طرف سے پندرہ دن قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔

جعلی شناختی کارڈ بنانے کے جرم میں وفاقی ادارے نادرا کے دو افسران کو پہلے سے گرفتار کیا جا چکا ہے۔

شربت گلہ نے 1980 کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر اپنی تصویر کی اشاعت کے بعد عالمی شہرت پائی تھی۔

افغان سفارتخانے کے حکام کے مطابق اس تصویر سے شہرت پانے والی شربت گلہ اب عالمی سطح پر افغانستان کی شناخت بن چکی ہیں۔

شربت گلہ کو 26 اکتوبر کو پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد عدالت نے شربت گلہ کو جیل بھیج دیا تھا۔تاہم بعد میں انہیں بیماری کے باعث جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔