رحیم اللہ یوسف زئی کے خلاف الزامات سچ نہیں: نیشنل جیو گرافک سوسائٹی

تصویر کے کاپی رائٹ Rhimullah Yousafzai
Image caption نیشنل جیوگرافک کے فوٹو گرافر سٹیو مکیوری نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے آفشل اکاونٹ سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جس میں رحیم اللہ یوسف زئی پر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کیا گیا تھا

نیشنل جیو گرافک سوسائٹی نے پشاور کے سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری اس مہم کو بے بنیاد قرار دیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ افغان خاتون شربت گلہ کو ملنے والی رقم میں مذکورہ صحافی نے خرد برد کی ہے۔

نیشنل جیو گرافک سوسائٹی کی جانب سے ان کی ویب سائیٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 2002 میں ادارے کی جانب سے شربت گلہ اور ان کے خاندان کی مدد کےلیے ایک فنڈ قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد ان کے بچوں کو تعلیم دلانا تھا۔

بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ ’اس دوران رحیم اللہ یوسفزئی نے ادارے کے ساتھ بہت تعاون کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ فنڈ سے ملنے والی رقم شربت گلہ کو ملے اور ان کی زندگی بہتر بنانے پر خرچ کی جائے۔‘

بیان کے مطابق 'گذشتہ چودہ برسوں کے دوران رحیم اللہ یوسف زئی نے ہمارے ساتھ زبردست کام کیا ہے۔‘

’ہم ان کے اچھے کام کی پرزور الفاظ میں تائید کرتے ہیں اور نیشنل جیو گرافک کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کیونکہ انھوں نے مشکل حالات میں ہماری مدد کی۔'

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بحثیت ایک صحافتی ادارے نیشنل جیو گراف میگزین اور دیگر نیشنل جیو گرافک میڈیا آئندہ بھی شربت گلہ جیسی کہانیوں اور تصویروں کو شائع کرتی رہے گی تاکہ مشکل حالات میں زندگی گزانے والے افراد کے مسائل سامنے آسکیں۔

یاد رہے کہ کچھ دنوں سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بعض افراد کی طرف سے مسلسل یہ الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ سنیئیر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کو نیشنل جیو گرافک میگزین کی سرروق پر تصویر آنے سے شہرت پانے والی افغان خاتون کو ملنے والی رقم میں خردبرد کی۔

اس ضمن میں بعض افغان ویب سائٹس پر ان الزامات کی خبریں بھی نشر کی گئی تھیں۔ اس مہم میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اب بعض اعلی افغان سفارتی اہلکار بھی شامل ہوگئے ہیں۔

تاہم سنئیر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کے صاحبزادے نجیب یوسف زئی نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی کہ نیشنل جیوگرافک کے فوٹو گرافر سٹیو مکیوری کی طرف سے شربت گلہ کے نام پر ان کے والد کو رقم ضرور آئی تھی لیکن بعض تکنیکی وجوہات کے باعث وہ رقم کیش نہیں ہوئی بلکہ واپس ان کی اکاؤنٹ میں چلی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ DPA
Image caption نیشنل جیوگرافک کے فوٹوگرافر سٹیو مکیوری نے پشاور میں ایک مہاجر کیمپ میں شربت گلہ نامی ایک افغان بچی کی تصویر بنائی تھی جسے نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر شائع کرنے سے عالمی شہرت ملی تھی

انھوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اب بیرونی ممالک سے آنے والی رقم کی ہر سطح پر باقاعدہ تحقیقات کی جاتی ہے اسی وجہ سے وہ رقم ان کے والد کو نہیں ملی سکی۔

ان کے مطابق ’بعض افراد کی طرف سے سوشل میڈیا پر اسے ایک سازش کے تحت بڑا مسئلہ بنایا گیا۔ جس میں ایک فیصد بھی کوئی حقیقت نہیں۔ ‘

نجیب یوسف زئی کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بھی شربت گلہ کے لیے آنے والے تمام رقوم کا ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کے والد ان افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتے ہیں جنہوں نے بے بنیاد الزامات کو بغیرتحقیق کے اپنے مذموم مقاصد کےلیے استعمال کیا۔

اس سے پہلے شربت گلہ کی تصویر بنانے والے نیشنل جیوگرافک کے فوٹو گرافر سٹیو مکیوری نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے آفشل اکاونٹ سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا تھا جس میں رحیم اللہ یوسف زئی پر لگنے والے تمام الزامات کو مسترد کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اسی کی دہائی میں نیشنل جیوگرافک کے فوٹوگرافر سٹیو مکیوری نے پشاور میں ایک مہاجر کیمپ میں شربت گلہ نامی ایک افغان بچی کی تصویر بنائی تھی جسے نیشنل جیوگرافک میگزین کے سرورق پر شائع کرنے سے عالمی شہرت ملی تھی۔

اس تصویر کی اشاعت کے بعد نیلی آنکھوں والی شربت گلہ کو افغان مونا لیزا کے نام سے موسوم کیا جانے لگا۔ بعد میں تقریباً سترہ سال کے بعد اسی فوٹو گرافر نے دوبارہ پشاور آکر شربت گلہ کو ڈھونڈ نکالا جس مں سینئیر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے ان کی مدد کی تھی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شربت گلہ پاکستان میں جعلی شناختی کارڈ بنانے کے جرم میں گرفتار ہیں جس کی سزا منگل کو پوری ہو گئی جس کے بعد توقع ہے کہ بدھ کو انھیں افغانستان راونہ کردیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شربت گلہ

اسی بارے میں