پشاور میں پہلےعلاقائی بلڈ سینٹر کا افتتاح

بلڈ بینک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس سینٹر میں ماہرین نفسیات اور لوگوں کو خون کا عطیہ دینے کے لیے ترغیب دینے والے عملے کو تعینات کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں جرمنی کی حکومت کے تعاون سے پہلےعلاقائی بلڈ سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا ہے جو ابتدائی طور پر پشاور کے پانچ ہسپتالوں کو ضرورت کے مطابق خون فراہم کرے گا ۔

یہ سینٹر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے ساتھ قائم ہے جہاں خون کی باقاعدہ سکریننگ کی جاتی ہے ۔ اس سینٹر کے قیام کے لیے جرمنی نے تعاون کیا ہے اور اس کے دوسرے مرحلے میں اس طرح کے سینٹر ایبٹ آباد، ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات میں قائم کیے جائیں گے ۔

اس سینٹر میں ماہرین نفسیات اور لوگوں کو خون کا عطیہ دینے کے لیے ترغیب دینے والے عملے کو تعینات کیا گیا ہے ۔ اس سینٹر سے مریض کو خون کی جس قدر مقدار اور اس خون کے جو اجزا ضرورت ہوں گے وہ فراہم کیے جائیں گے ۔

اس سینٹر کی انچارج ڈاکٹر شاہ تاج نے بی بی سی کو بتایا کہ بعض مریضوں کو خون کے سرخ خلیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض کو خون کے پلیٹلیٹس کی فراہمی ضروری ہوتی ہے اس لیے اس سینٹر سے ایک یونٹ سے تین قسم کے مریضوں کو علاج کے لیے خون فراہم کیا جا سکے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ خون کی اشد ضرورت پڑنے پر اکثر مریضوں کے لواحقین بیمار یا نشے کے عادی افراد سے خون لینے پر مجبور ہوتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوگا ۔

’اس سنٹر میں خون فراہم کرنے والے شخص کا معائنہ ہوگا اور خون کی باقاعدہ سکریننگ ہوگی اور ایک سافٹ ویئر کے زریعے یہ ریکارڈ بھی رکھا جاے گا کہ کس کا خون کس مریض کو دیا گیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ کہا جارہا ہے کہ سرکاری سطح پر اس سینٹر کے قیام سے صحت مند خون کی فراہمی کو اب یقینی بنایا جا سکے گا۔

حیات آباد میڈیکل کملپلیکس میں تھیلیسیمیا کے مریضوں کو ماہانہ اٹھارہ ہزار یونٹس خون فراہم کر سکے گا جبکہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال، لیڈی ریڈنگ ہسپتال، سٹی ہسپتال اور گردوں کے ہسپتال میں مریضوں کو ضرورت کے مطابق خون فراہم کرسکے گا۔

خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات کے بیشتر مریض پشاور لائے جاتے ہیں جہاں اکثر اوقات خون کی اشد ضرورت پڑ جاتی ہے ۔ پشاور اور دیگر علاقوں میں بم دھماکوں کے مریضوں کو جب ہسپتال لایا جاتا ہے تو اس وقت خون کے عطیے کے لیے بھی عوام سے اپیلیں کی جاتی ہیں۔

یہ کہا جارہا ہے کہ سرکاری سطح پر اس سینٹر کے قیام سے صحت مند خون کی فراہمی کو اب یقینی بنایا جا سکے گا۔

اسی بارے میں