ڈان کی خبر سکیورٹی لیک نہیں تھی: وزیر داخلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیراعلیٰ شہباز شریف میں کبھی بھی تلخ کلامی نہیں ہوئی

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی انگریزی اخبار ڈان کی خبر سکیورٹی لیک نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ صحافی سرل المائڈہ ملک واپس آ کر تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

٭ ’خبر سے دشمن بیانیے کی تشہیر ہوئی‘

’خبر رکوانے میں ناکامی پرویز رشید کی برطرفی کی وجہ بنی‘

خیال رہے کہ حکومتِ نے گذشتہ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی انگریزی اخبار ڈان کی 'قومی سلامتی کے منافی' خبر کی اشاعت کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

جس میں بیوروکریٹس کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ تاہم پاکستان میں حزبِ مخالف کی بڑی جماعتوں نے حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی کو مسترد کر دیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے اعتراض کی وجہ کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا خان کے ایسے کوائف ہیں جو ممکنہ طور پر مفادات کے تضاد کی وجہ بن سکتے ہیں۔

پاکستان عوامی تحریک کے وکیل رہنما نے اِس کمیٹی کی تشکیل کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلینج بھی کردیا ہے۔

یہ خبر دینے والے صحافی سرل المائڈہ جن کا نام پہلے ای سی ایل میں ڈال کر ہٹانے کے بعد انھیں ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی اور وہ اس وقت امریکہ میں موجود ہیں۔

جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مذکورہ خبر سکیورٹی لیک نہیں بلکہ جھوٹی خبر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ ڈی جی آئی ایس آئی اور وزیراعلیٰ شہباز شریف میں کبھی بھی تلخ کلامی نہیں ہوئی۔‘

چوہدری نثار کے مطابق نان سٹیٹ ایکٹرز پر ساڑھے تین سال 34 میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور وہ ہر ملاقات میں موجود تھے اور اس معاملے پر کبھی نہ تلخی ہوئی اور نہ دو رائے ہیں۔

وزیرا داخلہ نے کہا کہ یہ جھوٹی خبر ہے اور اس پر کمیٹی اس لیے بنی کیونکہ یہ پاکستان کا بیانیہ نہیں ہے۔

’ ہم پہلے کی بات نہیں کرتے اب نان سٹیٹ ایکٹرز کے بارے میں ایک مشترکہ پالیسی ہے، کوئی بھی کارروائی ہوتی ہے کشمیر کی آزادی کے متوالے کرتے ہیں تو ہندوستان ہم پر تھوپ دیتا ہے، اس سٹوری نے یہ کہا ہے کہ ہاں ایسا ہی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جمعے کو ڈان کے ایڈیٹر سے ملاقات میں کہا گیا تھا کہ خبر دینے والے صحافی کو امریکہ سے واپس بلایا جائے۔ جس پر بتایا گیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے تک آ جائیں گے۔‘

اس خبر کے حوالے سے تحقیقات کرنے کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کو ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرانے کا ہدف دیا گیا۔ یہ خبر چھ اکتوبر کو شائع ہوئی تھی۔

جس کے بعد 29 اکتوبر کو وزیرِ اعظم نے اپنی کابینہ کے رُکن اور وزیرِ اطلاعات و نشریات پرویز رشید کو بھی اُن کے عہدے سے اِس بات پر ہٹا دیا تھا کہ اُنھوں نے اِس خبر کو رکوانے میں اپنا کردار ادا نہیں کیا۔

اسی بارے میں