'یہ ٹرمپ کی فتح نہیں ہلیری کی شکست ہے'

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف پوسٹر

سوشلستان میں اچانک سے صدرِ پاکستان ممنون حسین موضوعِ بحث ہیں کیونکہ سندھ کے نئے گورنر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا ہے۔ اب ان دونوں میں کیا مماثلت ہے اس پر مزید وقت صرف کیے بغیر چلتےہیں اس ہفتے کے اہم موضوع کی طرف جو سات سمندر پار ہوا۔

'جب امریکہ نے امریکہ کو چھوڑ دیا'

امریکی انتخابات میں پاکستانیوں کی دلچسپی ہمیشہ سے اتنی ہی تھی کہ صبح اٹھ کر کوئی بتا دے تو ٹھیک ورنہ لوگ تجسس میں ایک دوسرے سے نہیں پوچھتے تھے کہ کون جیتا؟

شاید اس دور میں سوشل میڈیا نہیں تھا جس کی وجہ سے اس بار رات بھر پاکستانی ٹوئٹر اور فیس بُک پر امریکی انتخابات کے ٹرینڈز نمایاں رہے۔

مگر ٹرمپ کے انتخاب پر پاکستانیوں کو موقع ملا کہ وہ امریکہ کو کہہ سکیں 'ہمیں باتیں کرتے تھے اب بتاؤ'۔

مثال کے طور پر ایک طنز و مزاح کے اکاؤنٹ نے لکھا 'اگر مودی اور ٹرمپ جیسے سخت گیر ریاست کے سربراہ بن سکتے ہیں تو پھر حافظ سعید کے صدرِ پاکستان بننے میں کیا مضائقہ ہے؟'

شہربانو تاثیر نے ٹویٹ کی کہ 'پاکستانی جو امریکی ووٹروں کے بارے میں شکوے کر رہے ہیں ہم نے پاکستان میں مسیحی مخالف، ترقی کے مخالف اور احمدی مخالف رہنما سالوں سے منتخب کرتے چلے آ رہے ہیں۔'

عاصمہ جہانگیر کا تبصرہ اس ساری صورتحال میں بہت مختلف تھا کہ 'یہ ٹرمپ کی فتح نہیں ہلیری کی شکست ہے۔'

اور فرخ سلیم کا خیال تھا کہ 'ٹرمپ کا جیتنا پاکستان کے لیے اچھا شگون ہے کیونکہ اب پڑھے لکھے امیر پاکستانی ملک واپس لوٹیں گے۔'

شربت گلہ اور افغان ٹرولز

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغان صدر شربت گُلہ کو ایل فلیٹ کی چابی پیش کرتے ہوئے

افغان شربت گلہ جنہیں نیشنل جیوگرافک کی ایک تصویر کی وجہ سے شہرۂ آفاق شہرت ملی ان پر گذشتہ ہفتے بہت بحث مباحثہ ہوتا رہا جس میں افغان اور پاکستانی سوشل میڈیا صارفین ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کرتے رہے۔

شربت گلہ افغان شہری ہیں اور ان کی اپنی زبان میں 'افغانستان صرف میری جائے پیدائش ہے مگر پاکستان میرا وطن تھا اور میں نے ہمیشہ اسے اپنا ملک سمجھا۔'

مگر اچانک سے انھیں جیل جانا پڑا اور اس کے بعد وہ ایک 'سیاسی تمغہ' بن گئیں 'جسے سینے پر سجانے کے لیے افغان سفارتکار اور شہری ایک دوسرے سے بازی لیجانے میں سرگرم رہے'۔

سوال یہ ہے کہ شربت گلہ کوئی آج کی تو پاکستان میں نہیں رہ رہیں تو ان کی دستاویزات پر سوالات اب کیوں؟

دوسرا سوال یہ کہ شربت گلہ کے شوہر کی وفات کے بعد سے سٹیو میک کری فاؤنڈیشن نے رحیم اللہ یوسفزئی کے توسط سے شربت کی مسلسل امداد جاری رکھی مگر اچانک سے رحیم اللہ یوسفزئی کے بارے میں افغان ٹوئٹر اکاؤنٹس کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے۔

جس کے جواب میں نیشنل جیوگرافک اور سٹیو مک کری کی جانب سے تردید کی گئی اور وضاحت کی گئی۔

سوال یہاں یہ بھی ہے کہ اگر یہ الزامات سچ تھے یا ہیں تو اب تک شربت گُلہ اور یہ سب الزامات لگانے والے خاموش کیوں تھے؟

اور کیا اس دوران یہی صاحبان شربت گُلہ کے خرچ کے ذمہ دار تھے کیونکہ ایک بیوہ اور بیمار عورت اب تک کس آمدن پر زندہ رہیں؟

مگر ہمیں یہ سمجھنے کے لیے شربت گُلہ اور اس کے اردگرد بقول ایک ٹوئٹر صارف موجود 'ریٹنگ کی دوڑ' کو بھی سمجھنا ہو گا جس کے پیچھے میڈیا، سفارتکار اور بہت سے دوسرے ہیں کیونکہ شربت گُلہ اکیلی افغان تارکِ وطن نہیں ہیں جو پاکستان میں غیر قانونی طور پر رہ رہیں یا افغانستان واپس گئیں۔

کیا ہر افغان تارکِ وطن جو پاکستان سے واپس جائے گا اسے فرنشڈ فلیٹ کی چابی افغان صدر پیش کریں گے؟

اس ہفتے کا تعارف

پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بہت کم ادارے ہیں اور اس حوالے سے آگہی اور رائے عامہ میں شعور بیدار کرنے کے لیے بہت کم کام ہوتا ہے۔ جہاں ایک جانب کراچی میں ایدھی اینمل ہوسٹل قائم ہے وہیں ’پاز پاکستان‘ یعنی پاکستان اینیمل ویلفیئر سوسائٹی کے نام سے تنظیم جانوروں کے تحفظ اور بہتری کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس تنظیم کے ذریعے لوگ بے یارومددگار جانوروں کی مدد کر سکتے ہیں اور معلومات شیئر کرتے ہیں۔

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پشاور میں کوڑے کے ڈھیر کے پاس کھڑے یہ نوجوان گلی سڑی سبزیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ جمع کر کے لیجا سکیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایک منظر جو ہر چند ماہ بعد دہرایا جاتا ہے