یہ مسئلہ تو حل ہو گیا کہ آج کیا پکے گا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چند سال پہلے پاکستان میں اگر کسی سے یہ کہا جاتا کہ وہ آلو، مٹر، ٹماٹر، پیاز سمیت کئی سبزیاں وہ گھر بیٹھے یا محض ایک سکرین پر کلک کر کے کھیت سے براہِ راست منگوا سکتے ہیں تو وہ اسے دیوانے کا خواب کہتے۔

لیکن دیوانے کے اسی خواب کو حقیقت کا روپ دیا ہے اسلام آباد کے رہائشی زاہد راؤ نے۔

انٹرنیٹ کو کاروبار کے فروغ کا ذریعہ بناتے ہوئے گھر گھر روزمرہ استعمال کی سبزیاں اور پھل آرڈر پر پہنچانے والے زاہد راؤ بتاتے ہیں کہ آن لائن سبزی اور فروٹ کے کاروبار کے فروغ سے نہ صرف شہریوں کو سہولت مل رہی ہے بلکہ بڑی بڑی مارکیٹوں میں خریداروں کا رش بڑھنے کی وجہ سے بے انتہا ٹریفک، پارکنگ کے لیے جگہ کی کمی، چلنے پھرنے میں دشواری، جیسے مسائل میں بھی کمی واقع ہوگی۔

صارفین کے رجحان اور ردعمل کے حوالے سے انھوں نے بتایا ’مجھے توقعات سے بڑھ کر رسپانس ملا، صارفین جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے بہت مطمئن اور خوش ہیں۔‘

’گھر میں بیٹھے بٹھائے انھیں ایک کلک پر سبزی مل جاتی ہے اور انھیں مارکیٹوں میں خوار نہیں ہونا پڑتا۔‘

لیکن آن لائن دستیاب مصنوعات کے حوالے سے صارفین میں ملے جلے تاثرات پائے جاتے ہیں۔

یاسمین فاطمہ ان لوگوں میں شامل ہیں جوآن لائن خریداری کو ترجیح دیتے ہیں۔

وہ سبزی کی آن لائن سروس کے حوالے سے بتاتی ہیں کہ ’میں بہت خوش ہوں کہ جب بھی سبزی کی ضرورت ہو آرڈر پر مل جاتی ہے مجھے بازاروں کے چکر نہیں لگانے پڑتے۔‘

ایک اور صارف رخسانہ پروین کہتی ہیں۔ ’آن لائن شاپنگ کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ خریدار کی اپنی پرائیویسی قائم رہتی ہے۔ خریدار اپنے ذاتی کمپیوٹر سے مختلف چیزیں خریدتے ہیں اور ان کو دکان داروں کے ساتھ تکرار بھی نہیں کرنا پڑتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC urdu
Image caption 'مجھے توقعات سے بڑھ کر رسپانس ملا، صارفین جن میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے بہت مطمئن اور خوش ہیں: زاہد راؤ

لیکن گھریلو خاتون انیلہ سلیمان آن لائن سبزیوں کی خریداری کی قائل نہیں۔

’مارکیٹ میں خود جا کر اگر خریداری کی جائے تو بہتر چیز منتخب کرنے کا آپشن موجود ہوتا جبکہ آرڈر پر ایک تو چیز مرضی کے مطابق ملتی نہیں اوپر سے قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے۔‘

گھر گھر تازہ سبزی جو ریڑی بان اور پھیری والے پہنچاتے تھے تو آن لائن شاپنگ سے ان کا کیا ہوگا۔

ایسے ہی ایک ریڑھی بان حمید اللہ کہتے ہیں ’اس سے ہمارے روزگار کا نقصان ہوگا۔ ہمارا رزق اس ریڑی کے ساتھ جڑا ہے کمپیوٹر پر بیٹھے پڑھے لکھے لوگ ہمارے کام میں مداخلت کر رہے ہیں انھیں روکنا چاہییے۔‘

پاکستان میں اس وقت آن لائن خریداری کے لیے کئی ویب سائٹس بن چکی ہیں۔ ان کمپنیوں کی رجسٹریشن کے حوالے سے کیا قواعد و ضوابط یا قانون موجود ہے؟ ان سوالات پرچیمبر آف کامرس کے سابق صدر عاطف اکرام کہتے ہیں ’قانون تو موجود ہے لیکن لوگ کس حد تک عملدرآمد کر رہے ہیں اس بارے میں انھیں حتمی طور پر معلوم نہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ آن لائن بزنس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اگر حکومت اس بزنس کو مکمل طور پر قانون کے دائرے میں لے آئے اور چیک اینڈ بیلنس کا طریقہ کار وضع کر لیا جائے تو حکومت کے ریونیو میں اضافہ ہوگا۔

عاطف اکرام کے مطابق ابھی جو طریقہ کار چل رہا ہے اس سے حکومت کو کوئی نفع نہیں ہو رہا۔

پاکستان میں تھری جی کی آمد نے یہاں بھی ترقی اور سہولت کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ آن لائن شاپنگ میں ابھی کئی اور نئے رنگ آنے کو ہیں لیکن فی الحال یہ مسئلہ تو حل ہو گیا کہ آج کیا پکے گا؟