دیکھو دیکھو کون آیا!

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیجیے! خدا خدا کر کے امریکہ کے الیکشن ہوئے اور ڈونلڈ ٹرمپ کا ماضی کریدنے والوں کو اپنے مستقبل کی فکر پڑی۔

سب سے زیادہ فکر ہمارے کوڑے والے کو تھی۔ اپنی ریڑھی پہ لدے محلے بھر کے کوڑے میں سے پلاسٹک کی بوتلیں اور گتے کے ڈبے بینتے ہوئے اسے ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد سے دنیا کے نقشے پہ پڑنے والے بھیانک اثرات کا نہ صرف اندازہ تھا بلکہ امیدِ واثق تھی کہ یہ 'ککا باندر' قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

بچوں کے سکول کا گارڈ بے حد اداس تھا۔ اس کے نزدیک آخر امریکیوں نے اپنی اوقات دکھا دی تھی۔ صفائی والی ماسی دیر تک 'باجی ہلیری' کی نیکی اور 'کلنٹن' جیسے گندے شوہر کو برداشت کرنے کی صفات کے گن گاتی رہی اور پھر آسمان کی طرف منہ کر کے گلو گیر آواز میں بولی: 'واہ اوئے ربا! غریب بندے کی تو کہیں نہیں سنی جاتی۔'

قاری صاحب، قرآن پڑھانے آئے تو بہت ملول تھے۔ ان کے نزدیک وہ وقت بس آنے ہی والا تھا جب دنیا بھر کے مسلمان مغلوب ہونے والے تھے، اور اس کی واحد وجہ استادوں کی عزت نہ کرنا ہے۔ 'ہمارے استاد تو ہماری کھال اتار لیتے تھے، مگر اب تو جی۔۔۔ ظاہر ہے ٹرمپ کی حکو مت ہے۔'

شدتِ جذبات سے ان کا گلا رندھ گیا اور وہ للچائی ہوئی نظروں سے بچوں کے موٹے موٹے گال دیکھنے لگے اور ان کا بشرا پکار پکار کر کہنے لگا کہ اگر آج ہلیری جیت جاتی تو وہ جی بھر کے ان بچوں کو پیٹتے اور دل کی حسرتیں نکالتے۔

ماسٹر شہزاد گرم کپڑے سی کر لایا تو ایسا دکھی تھا کہ چائے بھی نہ پی۔ بار بار تاسف سے سر ہلاتا تھا، ہاتھ، جن پہ قینچی چلا چلا کر گٹے پڑ چکے تھے، ملتا تھا اور بتاتا تھا کہ ٹرمپ نامی مصیبت اب ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گی۔

خلیل قصائی آنکھ بچا کے قیمے میں چھیچھڑے کوٹتے ہوئے ان سنہرے دنوں کو یاد کر کے آہیں بھر رہا تھا جب دنیا پہ ایک انصاف پسندشخص 'بارک حسین اوباما' کی حکومت تھی، جو ایک زمانے میں پاکستان بھی آیا تھا اور چہرے مہرے سے ہمارا ہی بھائی بند لگتا تھا۔

سامنے والوں کا سازشی باورچی بہت خوش تھا کہ اب کچھ ایسا ہونے والا ہے کہ کوٹھیوں والوں کے رنگ پیلے پڑے ہوئے ہیں، ان کا برا ہو گا تو ہمارا بھلا ہو گا۔ اسی خوشی میں وہ ٹرمپ کو ایک سچا، اچھا، اپنے کام سے کام رکھنے والا بزنس مین ثابت کر رہا تھا، جو صدر اوباما کی طرح 'شوخا' نہیں تھا۔

اس قدرتبصرے اور اندیشے سن کر ابھی اچھی طرح دہل بھی نہ پائی تھی کہ ایک دوست سے ملاقات ہوئی۔ یہ خاتون، حقوقِ نسواں کی داعی بھی ہیں اور 'دائی' بھی۔ اس سے پہلے کہ میں ان سے سنی سنائی باتوں پہ کوئی گفتگو کرتی، بہت حقارت سے گویا ہوئیں: 'دیکھ لیا دہرے معیار؟ ہلیری اس لیے صدر نہیں بنی کہ وہ عورت ہے۔ آخر کلنٹن بھی تو صدر رہا، ہلیری کیوں نہیں؟ آہ! یہ دنیا مرد کی دنیاہے اس میں چولھا پھٹنے سے مرنے والی عورت بھی مجبور ہے، تیزاب سے جھلسنے والی عورت بھی بےبس ہے اور حد یہ کہ امریکی صدارتی امیدوار بھی صرف عورت ہونے کی وجہ سے ناکام ہو جاتی ہے۔'

ڈرتے ڈرتے عرض کی کہ عورت ہونے کے علاوہ ہلیری کی ناکامی کی کوئی اور وجہ بھی ہے؟ نہایت حقارت سے مجھے دیکھا اور گویا ہوئیں: 'اپنے دل سے پوچھو، وہ کیا کہتا ہے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ظاہر ہے دل سے اس قسم کے سوالات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ چنانچہ ان کے کہے پہ صاد کہا اور بقیہ گفتگو کے دوران اس موضوع سے بچ بچ کے گزری۔

اب جب ذرا سے حواس بحال ہوئے ہیں اور کچھ دیکھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے، تو یہ ہی نظر آرہا ہے کہ یہ کچھ ویسا ہی وقت ہے جب گوربا چوف روس کے صدر بنے تھے۔ نیو ورلڈ آرڈر اور 11 ستمبر کے بعد یہ تیسری اہم تبدیلی ہے جو ہمارے عہد میں پیش آ رہی ہے۔ دنیا جو پہلے ہی جنگ اور مصیبت کا گڑھ بن چکی ہے اس کے لیے زیادہ برے دن ہیں یا کہیں کوئی بہتری پنہاں ہے؟

حواس باختہ مبصر، خوف زدہ عوام، بے یقینی کی دھند میں ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے پھر رہے ہیں۔ اس سب تحیر میں مجھے جو شخص بالکل جائز طور پہ پریشان لگا، وہ ہماری پڑوسن ہیں۔ بے چاری اس خوف سے ہسپتال پہنچ گئیں کہ کہیں ان کی فسادن نند کو میاں ٹرمپ بوجوہ امریکہ سے نکال نہ دیں۔

یہ سن کر نبضیں ہماری بھی چھوٹ گئیں کیونکہ، ہلیری کا عورت ہونا اس کے لیے جتنا مرضی نقصان دہ ثابت ہوا ہو، یہ نندوں کی واپسی پوری قوم کے لیے بےحد خطر ناک ثا بت ہو سکتی ہے۔

آئیے ہم سب ہاتھ اٹھائیں اور دعا کریں: 'یا الہیٰ ! ٹرمپ کو ہدایت دے اور یہ کل عالم کی نندوں کو امریکہ بلا لے، آمین! الہیٰ آمین! ثم آمین۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں