مہمند ایجنسی: بم دھماکے میں امن کمیٹی کے سربراہ ہلاک

Image caption حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الحرار نے قبول کرلی ہے

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ طالبان مخالف سابق امن کمیٹی کے سربراہ ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ اتوار کی صبح مہمند ایجنسی کی تحصیل صافی میں چیناری کے مقام پر ہوا۔

٭ مہمند ایجنسی: بارودی سرنگ پھٹنے سے پانچ سکیورٹی اہلکار زخمی

مہمند کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ تحصیل صافی میں سابق امن کمیٹی کے سربراہ اور قبائلی سردار ملک درا خان صبح کے وقت گھر سے نکل کر کہیں جارہے تھے کہ اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں قبائلی مشر ہلاک ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد قبائلی سردار کے مکان کے سامنے نصب کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔

ادھر اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دھڑے جماعت الحرار نے قبول کرلی ہے۔

مہمند ایجنسی میں پچھلے چند ماہ کے دوران سکیورٹی فورسز، حکومت حامی قبائلی مشران اور امن کمیٹیوں کے رضاکاروں پر حملوں میں مسلسل تیزی دیکھی جارہی ہے۔

پولیٹکل انتظامیہ اور مقامی ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات کے مطابق اس عرصے کے دوران مختلف واقعات میں درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد اس سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل انبار کے علاقے میں مسجد پر ہونے والے ایک خودکش حملے میں کم سے کم 36 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ مرنے والوں میں اکثریت حکومت حامی امن کمیٹیوں کے رضاکاروں اور عام شہریوں کی تھی۔

اس کے علاوہ ایجنسی بھر میں ٹارگٹ کلنگ کے متعداد واقعات پیش آئے ہیں جس میں غیر سرکاری تنظیموں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایجنسی بھر میں بڑھتے ہوئے بم حملوں کے واقعات کے خوف کے باعث اب عام شہریوں نے دور افتادہ علاقوں کی طرف جانا چھوڑ دیا ہے۔

مقامی ذرائع کہتے ہیں کہ سکیورٹی اہلکار روزانہ ایجنسی کے کسی نہ کسی علاقے میں سڑک کے کنارے بم ناکارہ بناتے ہے جس سے علاقے میں خوف کی کیفیت بڑھتی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ چند دن پہلے مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ اور مقامی قبائل نے تحصیل پنڈیالی کے علاقے میں ایک کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شدت پسندوں کے پانچ مکانات کو مسمار کردیا تھا۔

اس سے پہلے بھی ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے عسکریت پسندوں کے کئی مکانات کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس کا کہنا ہے کہ دو گروپوں کے مابین فائرنگ کے نتیجے میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر عصمت اللہ شاہین کے فرزند سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ٹانک پولیس کے مطابق یہ واقعہ سنیچر کی شام نیم خود مختار قبائلی علاقے ایف آر ٹانک کے سرحد کے قریب تھانہ ملازئی کی حدود میں پیش آیا۔

تھانہ ملازئی کے انچارج آدم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دو مسلح گروپوں کے مابین کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس پر دونوں نے ایک دوسرے پر فائرنگ کردی، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے۔

مرنے والوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق سربراہ عصمت اللہ شاہین کے صاحبزادے کمانڈر عثمان بھی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ عصمت اللہ شاہین تقریباً دو سال قبل شمالی وزیرستان میں فائرنگ کے ایک واقعے میں مارے گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں