پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما جہانگیر بدر کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا

جہانگیر بدر تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption جہانگیر بدر کا شمار سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر جہانگیر بدر کو لاہور کے مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

جہانگیر بدر اتوار کی شب دل کا دورہ پڑنے سے لاہور میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی عمر 72 برس تھی۔

پیر کو ان کی نماز جنازہ پنجاب یونیورسٹی کے لا کالج میں ادا گئی جس میں سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، سابق چیئرمین سینیٹ نیئر عباس بخاری، وزیر تعلیم پنجاب مشہود احمد خان سمیت سیاسی اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد میں شرکت کی.

جہانگیر بدر کے خاندانی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انھیں دل اور گردوں کا عارضہ لاحق تھا اور وہ کچھ عرصے سے ہسپتال میں داخل تھے اور توار کو انہیں دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک ٹویٹ میں جہانگیر بدر کے انتقال پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں یہ خبر سن کر صدمہ پہنچا ہے۔

جہانگیر بدر کا شمار سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا اور وہ پارٹی پر کڑے وقت میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے رہے۔

جہانگیر بدر 25 اکتوبر 1944 کو لاہور کے ایک متوسط خاندان میں پیدا ہوئے. انھوں نے طلبہ سیاست سے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور طلبہ تنظیم کے عہدے دار رہے۔

پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی اور اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے جمہوریت کے فروغ اور آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔

جہانگیر بدر پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر اور مرکزی سیکرٹری جنرل کے عہدوں پر بھی رہے۔

سنہ1988 میں جہانگیر بدر نے لاہور سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور منتخب ہونے پر وفاقی کابینہ میں جگہ بنائی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 1994 اور 2009 میں جہانگیر بدر دو مرتبہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے

جہانگیر بدر سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی پہلی کابینہ میں پیٹرولیم کے وزیر بنے جبکہ بینظر بھٹو کی دوسری حکومت میں سینیٹر کی حیثیت سے کابینہ میں جگہ بنائی۔

پیپلزپارٹی کے رہنما جہانگیر بدر نے جنرل ایوب، جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کی آمریت جیل بھی کاٹی۔

سنہ 1994 اور 2009 میں جہانگیر بدر دو مرتبہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

سنہ 2002 میں جہانگیر بدر نے جیل سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا تاہم وہ کامیاب نہ ہوسکے.

صدر غلام اسحاق خان اور جنرل پرویز مشرف نے اپنے ادور میں جہانگیر بدر کے خلاف مختلف الزامات میں ریفرنس قائم کیے تاہم عدالتوں میں الزامات ثابت نہ ہو سکے۔

جہانگیر بدر نے سیاسیات میں پی ایچ ڈی کی اور سیاسات کے موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی۔

بیماری کی وجہ سے جہانگیر بدر نے اپنی سیاسی سرگرمیاں بڑی حد تک محدود کر لیں تھیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما جہانگیر بدر نے سوگواروں میں بیوہ، دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے۔