پاکستان میں انڈین کرنسی کا کاروبار کرنے والے پریشان

انڈین کرنسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے انڈیا بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطاریں میں نظر آ رہی ہیں

پاکستان میں کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اُن کے پاس تقریباً 15 کروڑ روپے سے زیادہ انڈین کرنسی موجود ہے جو اب انڈیا میں 500 اور 1000 کے نوٹوں پر پابندی کے بعد اپنی اصل قیمت کی چوتھائی قیمت پر فروخت ہو رہی ہے جس سے اُن کو شدید نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔

پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ کا کہناہے کہ اِس سے کہیں زیادہ مالیت کے کرنسی نوٹ پاکستانی عوام کے پاس موجود ہو سکتے ہیں جو تجارت یا پھر سیاحتی کے غرض سے انڈیا جاتے ہیں۔

٭’ ایسا لگ رہا ہے جیسے لاش ٹھکانے لگا دی ہو‘

ظفر پراچہ کے مطابق انڈین حکومت نے 500 اور 1000 کے نوٹوں پر پابندی کا فیصلہ اچانک کیا اور انڈیا سے باہر کرنسی کے کاروبار سے منسلک افراد اور بیرون ملک مقیم افراد کے لیے نوٹ تبدیل کرانے کا دورانیہ بھی مناسب نہیں۔

'خاص طور پر باہر کے ممالک اور غیر ملکیوں کے لیے کچھ وقت مقرر کرنا چاہیے تھا۔ اُنہوں نے اپنے ملک میں رہنے والوں کے لیے تو وقت دے دیا جو شائد مناسب ہو لیکن ہمارے لیے نہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption نڈین حکومت نے 500 اور 1000 کے نوٹوں پر پابندی کا فیصلہ اچانک کیا

ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ اِس وقت ملک کے مختلف منی چینجرز کے پاس 15 کروڑ سے زیادہ انڈین کرنسی موجود ہے جو اِس فیصلے کے بعد اپنی اصل قدر کے مقابلے میں چوتھائی قیمت پر فروخت ہو رہی ہے۔

'پہلے اگر پاکستانی روپے کے مقابلے میں انڈین روپے کی عالمی سطح پر قیمت ایک روپیہ ساٹھ پیسے یا ستر پیسے تھی تو اب وہ اچانک گر کر پچاس پیسے رہ گیا۔ دو دنوں سے صورتحال یہ ہے کہ کوئی خرید نہیں رہا اور ہم لوگ ڈالر کے علاوہ ساری کرنسی دبئی برآمد کر کے ڈالرز میں ایکسچینج کرتے ہیں لیکن دبئی میں بھی کوئی نہیں خرید رہا انڈین کرنسی۔'

پاکستانی منی چینجرز نے پورے ملک سے اپنے نقصان کا تخمینہ لگا کر مرکزی بینک سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اِس نقصان کو کم کیا جا سکے لیکن کسی مدد کے نہ مل پانے کی صورت میں یہ انڈین کرنسی صرف کاغذ کا ٹکڑا رہ جائے گی۔

اِس سے قبل انڈیا نے پاکستان پر یہ الزام لگایا تھا کہ کراچی اور پشاور میں انڈین کرنسی کے 500 اور 1000 والے نوٹ چھاپے جا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اِس معاملے پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ'ہم نے میڈیا رپورٹس کا مشاہدہ کیا ہے اور یہ اقدام انڈیا میں بدعنوانی، انڈر ورلڈ کا کالا دھن اور جعلی کرنسی کے کاروبار کی وجہ سے اُٹھایا گیا اور پاکستان نہیں بلکہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کے لیے مالی مدد فراہم کرتا رہا ہے جس کے ناقابلِ تردید ثبوت پاکستان کے پاس ہیں۔'

انڈیا میں آج سے چھ روز قبل 500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹوں پر لگائی گئی پابندی سے عوام ایک بحرانی کشمکش کا شکار ہیں، کاروبار ٹھپ ہیں اور افواہوں کا بازار گرم ہے۔

یکایک بہت سے لوگوں کی برس کی بچت بےقدر ہوگئی۔ جیب میں نوٹ تو ہیں لیکن انھیں لینے والا کوئی نہیں۔

نوٹ بدلوانے اور اپنے پیسے نکالنے کے لیے ملک بھر کے تمام بینکوں میں لوگوں کی کثیر تعداد قطاروں میں کھڑی نظر آ رہی ہے جبکہ کئی جگہ بے قابو ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس کی مدد لینی پڑی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں