ستر سال بعد گرودوارے کی بحالی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
حکومتِ پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لیے ایک ستر سال پرانا گردوارا کھول دیا ہے

گیروی رنگ کی پگڑی پہنے دراز قد اور پتلے دبلے جسم والے سورن سنگھ جب اپنے ساتھ آئے درجن بھر یاتریوں کے ہمراہ گرودوارہ کیارہ صاحب میں داخل ہوئے تو ان کے چہرے پر عقیدت اور خوشی کے ملے جلے جذبات تھے۔

پاکستان میں گرو نانک کے جنم دن پر سکھ برادری کے لیے ’چار تحائف‘

ان کا تعلق انڈین پنجاب کے ضلع فیرزپور سے ہے۔ وہ سکھ مذہب کے بانی بابا گورنانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے پاکستان آئے ہیں۔

سورن سنگھ نے آنے والے تمام یاتریوں کی طرح گرودوارے کے اندرونی احاطے میں داخل ہونے سے پہلے جوتے اتارے اپنے پاوں دھوئے اور پھر اپنی باری آنے پر گرو گرنتھ صاحب کے سامنے ماتھا ٹیکا۔

گرودوارہ کیارہ صاحب میں ماتھا ٹیک کر سورن سنگھ کی زندگی کی دیرینہ خواہش پوری ہوگئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ'اب سے پہلے آنے والے بتاتے ہیں کہ گرودوارہ کیارہ صاحب بند تھا اس لیے وہ یہاں درشن دینے کی خواہش دل میں لیے واپس چلے جاتے تھے۔ لیکن ہم خود کو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہمیں یہاں ماتھا ٹیکنا نصیب ہوا۔'

پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب میں واقع سکھوں کا تاریخی گرودوارہ کیارہ صاحب ستر سال سے بند تھا۔ اور گذشتہ کئی برسوں میں پاکستان اور انڈیا میں موجود پربھندک کمیٹیوں کی جانب سے اس کی بحالی کا معاملہ شدت اختیار کر چکا تھا۔

سکھ روایات کے مطابق گرودوارہ کیارہ صاحب کے مقام پر سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک دیو جی کے ساتھ ان کے بچپن میں اس وقت معجزہ رونما ہوا تھا جب وہ یہاں مویشی چرانے کے لیے لائے تھے۔

گردوارے کا افتتاح متروکہ وقف املاک بورڈ کے چئیرمین صدیق الفاروق نے کیا جنہوں نے اسے بابا گرونانک کے جنم دن کا تحفہ قرار دیا۔

گرودوارے کی عمارت کو رنگ روغن کیا گیا ہے اور یہاں یاتریوں کے درشن کے لیے گرنتھ صاحب رکھ دی گئی ہے۔ کیارہ صاحب آنے والے یاتریوں نے گرودوارے کی بحالی پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا۔

ایندر سنگھ کا کہنا تھا کہ'جتنا سکون ہمیں گرودوارہ کیارہ صاحب کو دیکھ کر ملا ہے وہ سننے سے نہیں ملتا تھا۔ بہت اچھا لگا۔ اگر قدرت کو منطور ہوا تو ہم یہاں دوبارہ درشن دینے آئیں گے۔'

جبکہ چندی گڑھ سے آنے والی کلوویر کور کا کہنا تھا کہ 'ہم یہاں آ کر بہت مطمئن ہیں یہاں کا ماحول دیکھ کر ہم خود کو بہت خوش نصیب سمجھتے ہیں کہ ہمیں کیارہ صاحب کےدرشن کی سعادت ملی۔'

یاتریوں نے گرودوارےکی عمارت کی خستہ حالی تالاب میں پانی نہ ہونے اور یاتریوں کے لیے کمروں کے حصول میں ہونے والی مشکلات کی شکایت کی۔

انڈین پنجاب سے آئے سچا سنگھ کا کہنا تھا کہ یہاں آنا ایک خواب کی طرح لگا۔ جو پیار اور محبت ہمیں یہاں ملی ہے اسے لفظوں میں بیان نہیں کرسکتے۔

انھوں نے بتایا 'میرا گاوں سرحد کے قریب ہے۔ میں نے پینسٹھ اور اکہتر کی جنگیں دیکھی ہیں۔ جنگ تباہی کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ جب ہم آ رہے تھے تو خوفزدہ تھے کہ نہ جانے پاکستان جا کر کیا ہوگا۔ یہاں آئے تو خوف دور ہوگیا۔ ہم آپ کو بتانا چاہتے ہیں کہ انڈیا کے لوگ بھی امن ہی چاہتے ہیں۔'

کیارہ صاحب تین سو پچاس برس قدیم ہے اور اسے تقیسم ہند سے پہلے فسادات کے دوران بند کر دیا گیا تھا۔ ننکانہ صاحب میں ہی بابا گرونانک کے ساتھ مسلمان ستار نواز بھائی مردانہ کی آٹھ سو مربع گز پر یادگار کی تعمیر بھی جاری ہے جو تین سے چار ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔

پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں تناو کے باوجود بابا گرونانک دیو جی کے جنم دن کی تقربیات کے لیے انڈیا اور دنیا بھر سے ہزاروں سکھ یاتری پاکستان آئے ہیں۔ تاہم بہت سے یاتری ابھی بھی گرودوارہ کیارہ صاحب کی بحالی سے بے خبر ہیں اس لیے یہاں آنے والوں کی تعداد جنم استھان میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کرنے والوں کی نسبت خاصی کم رہی۔

اسی بارے میں