منتیں رکاوٹیں کہاں دیکھتی ہیں

Image caption چاروں اطراف سے پہاڑوں میں گھرے شاہ نورانی کا مزار کراچی سے تقریبا 150 کلومیٹر دور ہے

’نورانی نور ہر بلا دور‘ ایک پچاس سالہ شخص مزار کے اندر داخل ہوتے ہی نعرہ لگاتا ہے ۔ چند منٹ خاموشی کے ساتھ کچھ پڑھنے کے بعد الٹے پاؤں دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتا ہے۔

یہ اسی مزار کی دوپہر کا منظر ہے جہاں ایک روز قبل شام کو خود کش بم دھماکے میں 50 سے زائد زائرین ہلاک ہو گئے تھے۔

شاہ نورانی مزار دھماکے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم

خضدار میں شاہ نورانی کے مزار میں دھماکہ، کم از کم 54 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی

مزار کے زیریں حصے میں دھمال کورٹ موجود ہے جس کے اندر کچھ قبریں بھی واقع ہیں، اسی احاطے میں ایک حصہ خواتین کے لیے مختص ہے۔

شاہ نورانی کے مزار پر خواتین اور بچے بڑی تعداد میں دھمال ڈال رہے تھے کہ اسی دوران دھماکہ ہوا جس میں غوث بخش محفوظ رہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا 'جمعے، سنیچر اور اتوار کو لوگوں کا رش رہتا ہے، اس روز سنیچر تھا، تقریبا دو ہزار کے قریب لوگ موجود تھے دھمال شروع ہوئے ابھی پانچ منٹ ہوئے تھے کہ زودار دھماکہ ہوا اور میرے کان بند ہوگئے۔'

چاروں اطراف سے پہاڑوں میں گھرے شاہ نورانی کا مزار کراچی سے تقریبا 150 کلومیٹر دور ہے۔

Image caption کراچی سے لوگ اپنی گاڑیوں اور منی بسوں کے علاوہ موٹر سائیکلوں پر بھی یہاں آتے ہیں جب کہ انھیں تین کلو میٹر کا دشوار سفر پیدل طے کرنا ہوتا ہے

حب سے محبت فقیر تک سڑک بننے کے بعد زائرین کی تعداد دگنی بڑھ چکی ہے۔ کراچی سے لوگ اپنی گاڑیوں اور منی بسوں کے علاوہ موٹر سائیکلوں پر بھی یہاں آتے ہیں جب کہ انھیں تین کلو میٹر کا دشوار سفر پیدل طے کرنا ہوتا ہے۔

شاہ نورانی مزار میں پینے کا پانی، ٹیلی فون اور بنیادی سہولیات کا فقدان بھی زائرین کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ مزار کے اطراف میں مسافر خانے اور حمام بنے ہوئے ہیں جہاں زائرین فیملیز کے ساتھ آ کر ایک دو روز قیام کرتے ہیں۔

دھماکے کے بعد بھی کئی خاندان یہاں آ رہے تھے، جس میں نیو کراچی کا بھی خاندان شامل تھا۔

اس خاندان کا کہنا تھا کہ انھیں بالکل بھی ڈر نہیں لگا وہ یہاں آتے رہے ہیں حالانکہ انھیں لوگوں نے منع کیا تھا کہ نہ جاؤ لیکن لوگ تو کراچی میں بھی دھماکوں اور فائرنگ سے مارے جاتے ہیں۔

حب سے لیکر شاہ نورانی کے مزار تک ایف سی کی ایک اور لیویز کی تین چیک پوسٹیں موجود ہیں، دھماکے کے بعد مزار پر ایف سی تعینات ہے لیکن اس سے پہلے لیویز اہلکار یہاں کی نگرانی پر مامور تھے۔

Image caption شاہ نورانی مزار پر دھماکے کے بعد وہاں ایف سی تعینات ہے لیکن اس سے پہلے لیویز اہلکار اس کی نگرانی پر مامور تھے

خلیفہ غلام حسین کا خاندان کئی پشتوں سے مزار کی نگرانی کرتا آیا ہے لیکن اس نے کبھی خوف محسوس نہیں کیا۔

غلام حسین کے بقول 'کبھی کسی کی طرف سے کوئی دھمکی نہیں آئی اور نہ ہمارے ذہن میں کبھی ایسا خیال آیا اس وجہ سے انتظامیہ کو کبھی سیکیورٹی کے لیے نہیں کہا ہمارے اپنے لوگ نظر رکھتے تھے لیکن اب صورت حال تبدیل ہوچکی ہے اس لیے ضرور سکیورٹی بڑھانے کے لیے کہیں گے۔'

شاہ نورانی کے مزار پر دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے لیکن بلوچستان اور سندھ میں حالیہ دھماکوں کی انگلیاں یہاں اسی ضلع خضدار کی طرف اٹھی ہیں جہاں حکام کے مطابق شدت پسند گروہ موجود ہے۔

یہ سوال آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن سے بھی کیا گیا۔

آئی جی ایف سی کا کہنا تھا کہ جب تک واقعہ کی مکمل تحقیقات نہیں ہو جاتیں اس وقت تک اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں کونسا گروہ ملوث ہے۔

اتوار کی صبح حب کی تحصیل ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹر یا نرسنگ سٹاف میں سے کوئی نظر نہیں آیا۔ گارڈ نے بتایا کہ تمام زخمیوں اور میتوں کو کراچی منتقل کیا گیا ہے۔ اس سفر میں حب سے لیکر محبت فقیر کے مزار تک راستے میں متعدد مدرسے اور تین پرائمری سکول نظر آئے۔

محبت فقیر پر ایک بنیادی مرکز صحت کی عمارت موجود ہے لیکن وہاں ڈاکٹر تعینات نہ تھا۔ تمام زخمیوں کا علاج ایک نجی ہسپتال کے ڈاکٹر عبدالواحد بروہی نے کیا۔

Image caption شاہ نورانی مزار میں پینے کا پانی، ٹیلی فون اور بنیادی سہولیات کا فقدان بھی زائرین کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ مزار کے اطراف میں مسافر خانے اور حمام بنے ہوئے ہیں جہاں زائرین فیملیز کے ساتھ آ کر ایک دو روز قیام کرتے ہیں

ڈاکٹر بروہی نے تین کمروں پر مشتمل کلینک دکھاتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے 60 سے 70 مریض دیکھے اور انھیں اپنے طور پر ڈرپس لگائیں اور ابتدائی طبی امداد دی۔

ان کے بقول ان کے مزار سے ہپستال تک کا تین کلومیٹر کا فاصلہ آدھے گھنٹے میں طے ہو رہا تھا جس وجہ سے زخمیوں کا خون بہہ جانے کی وجہ سے اموات زیادہ ہوئیں۔

صوبائی حکومت نے مزار کو بند کردیا ہے۔ صوبائی وزیر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ جب تک مزار کی مکمل مرمت نہیں ہوتی یا اسے محکمہ اوقاف کے حوالے نہیں کیا جاتا یہ بند رہے گا۔

لیکن منتیں رکاوٹیں کہاں دیکھتی ہیں۔ راستے میں ایک نوجوان جوڑا نظر آیا۔ لڑکی نے ہاتھ میں چپل اٹھا رکھی تھی اور وہ پتھریلی زمین پر بےنیاز چل رہی تھی۔ لڑکی نے بتایا 'منت پوری ہو گئی ہے، بابا کے مزار پر حاضری کے لیے جا رہے ہیں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں