پاناما لیکس میں مدعی سست؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کا معاملہ ہر سماعت پر نئے اشارے دینے لگتا ہے۔ اگر پچھلی سماعت میں کمرہ نمبر ایک کے ایک کونے پر صحافیوں کے لیے پڑی میز کے گرد بیٹھے ہوئے محسوس ہوتا تھا کہ فریقین سپریم کورٹ کے اسی بنچ سے فیصلے کے متمنی ہیں تو آج کی پچاس منٹ کی سماعت سے محسوس ہوا کہ کوشش اب معاملے کو طول دینے کی ہے۔

فریقین خصوصاً تحریک انصاف اور عوامی مسلم لیگ نے سینکڑوں صفحات پر مبنی بقول ان کے جو 'شواہد' جمع کرائے ہیں۔ اس سے مقدمے میں کسی کو فائدہ ہو نہ ہو ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کا سبب ضرور بنے ہیں۔ وہ بھی ایک ایسی جماعت کی جانب سے جو خیبر پختونخوا میں 'بلین ٹری سونامی' لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

ججوں کے ابتدائی ردعمل سے تو لگا کہ ان 686 صفحات میں کوئی ٹھوس ثبوت ان کے ہاتھ نہیں لگا ہے۔ انھیں محض گارڈین جیسے اخبارات کی خبریں پڑھنے کو ملی ہیں اور وہ بھی اگر قدیمی نہیں تو کئی دہائیاں پرانی ضرور۔ ایک جج ان دستاویزات کے ردعمل میں اپنے ریمارکس میں واضح کر دیا کہ 'ہم بہت ناخوش ہیں'۔

لیکن پاکستانی میڈیا کی ہردل عزیز شخصیت شیخ رشید جو کہ اپنے مقدمے کی وکالت خود کر رہے ہیں ججوں میں بھی کافی مقبول معلوم ہوتے ہیں۔ عدالت انھیں ہر سماعت پر بات کرنے کا موقع ضرور دیتی ہے۔ اس مرتبہ بھی جب موقع ملا تو شیخ صاحب نے قانونی باتیں کم اور سیاسی زیادہ کیں۔ ججوں کے سامنے منت کرتے رہے کہ جیسے انھیں کھچا کھچ بھرے کمرہ عدالت کو دیکھ کر، باہر کھڑی ڈی سی این جیز کی تعداد گن کر ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ تمام قوم کی نظریں ان پر ہیں۔

شیخ صاحب بار بار ایک ہی بات کرتے رہے کہ 'تمام ملک آپ کو دیکھ رہا ہے، یہ وقت انتہائی اہم ہے'۔ اس وقت ایسا کیا اہم ہے اس کی انھوں نے وضاحت نہیں کی۔ لیکن ایک ایسے شخص کی جانب سے جو راولپنڈی کی پارلیمان میں نمائندگی کرتے ہیں اور جن کی پنڈی سے تعلق ڈھکا چھپا نہیں یہ بیان معنی خیز ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شیخ صاحب نے اپنے روایتی برجستہ انداز میں کہاں کی بات کہاں پہنچا دی۔ کہنے لگے کہ 'نواز خاندان بڑا چالاک ہے اور کل کو مودی کا اٹیسٹ کیا ہوا مہاتما گاندھی کا خط پیش کر دیں گے کہ رقم انھوں نے دی تھی'۔ انہوں نے انگریزی میں کہا کہ 'یہ جھوٹے ہیں'۔ تو جسٹس آصف کھوسہ نے پوچھا کہ ان کی مراد وکیل سے ہے یا جھوٹے۔ شیخ صاحب فوراً دفاعی پوزیشن میں آئے اور کہا کہ یہ انگریزی اور اردو میڈیم کا فرق ہے۔

اس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جملہ کسا کہ 'شیخ صاحب آپ اگر سیاستدان کی بجائے وکیل ہوتے تو زیاد کامیاب ہوتے'۔ تمام کمرے میں مسکراہٹ پھیل گئی۔ شیخ رشید اپنے آپ کو بلاجھجک خود ہی اپنی انگریزی میں انتہائی فراخ دلی سے 'ڈاون ٹاون مین' اور 'قوم کے ترجمان' کے القابات دیتے رہے۔ اب انھیں عدالت عظمیٰ کی جانب سے مقبول وکالت کی سند بھی مل گئی ہے۔ لیکن انھوں نے بھی تحریک انصاف کی طرز پر 600 صفحات جنھیں وہ ثبوت کہہ رہے ہیں اس سند کے حصول سے ایک دن پہلے جمع کروا دیے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ سماعت میں وہ ایک باسند وکیل کے طور پر خواہشات کو شواہد نہیں بنائیں گے بلکہ ٹھوس ثبوت پیش کریں گے۔

پاناما لیکس میں فریقین کی سٹریٹجی جو بھی ہو اب تک کی سماعت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین بظاہر اس معاملے کے جلد فیصلے میں عدالت میں مدد نہیں کر رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں