’عالمی برادری جنوبی ایشیا کو انڈیا کی نظر سے نہ دیکھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے لندن میں برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے سے ملاقات میں کہا ہے کہ عالمی برادری بلخصوص دوست ممالک کو خطے میں انڈیا کی انتہا پسندی پر توجہ اور اس کا جواب دینا چاہیے۔

لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے بیان کے مطابق 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں مشیر سکیورٹی امور سر مارک لائل گرانٹ سے ملاقات کے دوران اس میں وزیراعظم ٹریزا مے بھی شامل ہو گئیں۔

بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے ملاقات میں کہا کہ انڈیا کا حاکمانہ موقف اور اس کا جارحانہ انداز خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ان ہتھکنڈوں سے پاکستان کو مرعوب نہیں کیا جا سکے گا اور ان کا ملک اپنے فوجیوں کی بلااشتعال اور ڈھٹائی سے ہلاکت کا بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے مزید کہا کہ دنیا اور پاکستان کے دوست ممالک کو انڈیا کے پاکستان کے خلاف منصوبوں کے انسداد کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور انھیں جنوبی ایشیا کو انڈیا کی نظر سے دیکھنا بند کرنا چاہیے۔

انھوں نے ملاقات میں دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سکون کے لیے ایک خطرہ ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی عوام اور اس کے سکیورٹی ادارے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل صفایا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام سمجھتی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر اس ضمن میں ان سے امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہیے اور دنیا کو عالمی سطح پر امن کے لیے اس کے کردار کو تسلیم کرنا چاہیے۔

انھوں نے افغانستان کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے۔

وزیر داخلہ نے برطانوی وزیراعظم کو خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان کے آئندہ برس کے ابتدا میں دورۂ پاکستان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ اور کثیر الجہتی تعاون اور رابطوں کے نئے راستے کھلیں گے۔

اسی بارے میں