کراچی کے میئر وسیم اختر ضمانت پر رہا، بیرون ملک جانے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے شہر کراچی کے میئر وسیم اختر کو عدالت نے ضمانت پر رہا کرتے ہوئے ان پر بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

وسیم اختر پر مختلف نوعیت کے 38 مقدمات دائر تھے جن میں انہوں نے ضمانت حاصل کی۔

جیل سے رہائی کے موقعے پر ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، فیصل سبزواری اور دیگر نے ان کا استقبال کیا۔

’وسیم اختر جیل سے کراچی چلا کر دکھائیں گے‘

منگل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جج خالدہ یاسین نے وسیم اختر اور پیپلز پارٹی کے سابق رکن قومی اسمبلی قادر پٹیل کی درخواست ضمانت کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا اور ساتھ میں ان کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کر دی۔

ایم کیو ایم کے منتخب میئر وسیم اختر کو سکیورٹی انتظامات میں جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جہاں ان پر دہشت گردوں کے علاج معالجے میں معاونت کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر فیصلہ سنایا گیا۔

عدالت نے دونوں کی ضمانت منطور کرتے ہوئے 5، 5 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

وسیم اختر پر 12 مئی 2007 کی ہنگامہ آرائی، ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی اشتعال انگیز تقاریر سمیت دیگر الزامات میں 38 مقدمات دائر تھے۔

وسیم اختر اور قادر پٹیل کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور اس مقدمے کی تحقیقات ہو چکی ہے اور تفتیشی افسر انہیں بے گناہ قرار دے چکے ہیں لیکن دوسرے افسر نے چالان پیش کیا کہ دوران تفتیش اسے کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ انھوں نے دہشت گردوں کا علاج کرایا تھا۔

وکلا نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ اس مقدمے میں ڈاکٹر عاصم حسین سمیت 4 ملزمان ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر چکے ہیں عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوط کر لیا تھا جو منگل کو سنایا گیا۔

یاد رہے کہ رینجرز نے گذشتہ سال اگست میں ڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتار کرکے 3 ماہ زیر تفتیش رکھا گیا۔

بعد میں ان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے الزام عائد کیا کہ وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مقابلے میں زخمی ہونے والے دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے علاج معالجے میں معاونت کرتے تھے اور اس کے لیے ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر، رؤف صدیقی، پاک سرزمین پارٹی کے رہنما انیس قائم خانی اور پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل ہدایات دیتے تھے۔

ڈاکٹر عاصم کے علاوہ دیگر ملزمان نے اس مقدمے میں عبوری ضمانت حاصل کی تھی لیکن بعد میں انھیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔

دوسری جانب میئر وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کراچی کی ترقی اور امن کی بحالی میں وہ اپنا ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔" صاحب اقتدار اور سندھ حکومت سے درخواست کروں گا کہ اقتدار کے تیسرے سطح کی حکومت بھی ان ہی کی حکومت ہے بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیئے جائیں تاکہ وہ اپنے مینڈیٹ کے ساتھ کراچی کے لوگوں کے مسائل کے حل کی کوشش کرسکیں کراچی میں ہر مذہب اور ہر زبان بولنے والے لوگ رہتے ہیں وہ سیاست سے بالاتر ہوکر ان کی خدمت کریں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وسیم اختر کے استقبال کے لیے ایم کیو ایم کے بے شمار کارکن موجود تھے

کراچی کے بعض علاقوں میں مہاجر جرگہ نامی غیر معروف تنظیم کے چند بینر آویزاں کیے گئے تھے جس میں پرویز مشرف اور ڈاکٹر فاروق ستار کی تصاویر ساتھ نظر آتی ہیں، جبکہ شہر میں یہ افواہیں زیر گشت ہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف اور سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد ایم کیو ایم میں شمولیت اختار کر رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کی جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک تصویر بھی سامنے آئی تھی تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم میں قیادت کی کوئی نشست خالی نہیں۔

" سابق گورنر اور صدر کی خدمات پر ہمیں فخر ہے، سیاسی طور پر ان سمیت سب کے لیے دروازے کھلے ہیں وہ شمولیت اختیار کرسکتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کا ایک طریقہ کار ہے۔

خواجہ اظہار الحسن نے دعویٰ کیا کہ آنے والے وقت میں کراچی کی بہت بڑی قدآور شخصیات ایم کیو ایم میں شامل ہوں گی جن میں دوسری جماعتوں کے بھی لوگ شامل ہیں اور وہ ایک بہت بڑا پروگرام کرنے جا رہے ہیں۔

دریں اثنا احتساب عدالت نے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کی تھراپی کرانے کی ہدایت کی ہے، وہ ان دنوں جناح ہپستال میں زیر علاج ہیں۔ جہاں ان کا موقف تھا کہ ہائڈرو تھراپی کی سہولت موجود نہیں۔

اسی بارے میں