پولیس کا لاہور سے دولتِ اسلامیہ کے آٹھ ارکان گرفتار کرنے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پولیس کے شعبہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایک کارروائی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے آٹھ مبینہ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

صحافی عبدالناصر خان کے مطابق سی ٹی ڈی پولیس پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گرفتار شدت پسندوں میں ان کا سرغنہ بھی شامل ہے جو پنجاب سے لوگوں کو شدت پسندی کی جانب مائل کر کے شام اور افغانستان بھیجتا رہا ہےجبکہ گرفتار مشتبہ شدت پسند بھی شام اور افغانستان جانے کی تیاریوں میں تھے کہ عین وقت پر دھر لیے گئے۔

سرگودھا میں داعش سے منسلک دو شدت پسندوں کی گرفتاری کا دعویٰ

پنجاب: ’القا‏عدہ سے منسلک شدت پسندوں کی ہلاکت کا دعوی‘

ترجمان کے مطابق گرفتاریاں شدت پسندوں کے ایک سیل سے عمل میں آئیں جس کی گذشتہ تین ماہ سے نگرانی کی جا رہی تھی اور اس وقت چھاپہ مار کر ان شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جب وہ شام اور افغانستان جانے کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔

ترجمان کے مطابق گرفتار شدت پسندوں میں دولتِ اسلامیہ کا مبینہ مقامی لیڈر نبیل ابی عبداللہ بھی شامل ہے جو پنجاب سے شدت پسندوں کوافغانستان اور شام بھیجنے کا کام کرتے رہے اور اب بھی اسی قسم کی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔

ترجمان کے مطابق اس گروہ کا سب سے اہم راہنما قاری عابد ہے جو پہلے ہی شام پہنچ چکے ہیں تاہم ان کی سوشل میڈیا پر پوسٹس ہی لوگوں کو شدت پسندی کی طرف راغب کرنے کا بڑا ذریعہ ہے۔

ترجمان کے مطابق ملزمان سے دولتِ اسلامیہ کا لٹریچر، لیپ ٹاپس، موبائل فونزبھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں اور گرفتار شدت پسندوں کے خلاف لاہور کے تھانہ سی ٹی ڈی میں مقدمہ درج کر کے ان کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اسی بارے میں