’اساتذہ ہیں کوئی دہشت گرد نہیں جو تین دن میں نکال رہے ہیں‘

گولن سکول
Image caption بچے وسط تعلیمی سال میں اساتذہ کی تبدیلی سے ذہنی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور اب ان اساتذہ کے بارے میں جو باتیں سامنے آئی ہیں بچوں کے ذہن پر اس کے اثرات پڑیں گے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں پاک ترک سکول میں زیر تعلیم بچوں کے والدین اور اساتذہ نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی ہے کہ ترک عملے کو پاکستان سے نکالے جانے کا فیصلہ واپس لیا جائے۔

اساتذہ اور والدین کا کہنا تھا کہ ترک شہری استاد ہیں کوئی دہشت گرد نہیں کہ انھیں تین دن میں ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

٭ ’گولن کی تنظیم پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ‘

جمعرات کو پشاور پریس کلب میں اخباری کانفرنس میں 20 سے 25 اساتذہ، طلبا اور ان کے والدین موجود تھے۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب میں پاک ترک سکول پشاور کی ہیڈ ٹیچر عشرت نے کہا کہ ترک اساتذہ نے یہاں اعلیٰ معیارِ تعلیم کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیں ان اساتذہ کا احترام چاہیے،اس طرح انھیں ملک سے نکالنے کا فیصلہ مناسب نہیں ہے۔

پاکستان میں 108 ترک اساتذہ ہیں جبکہ دیگر ترک عملے اور ان کے خاندان کے افراد کی تعداد تقریباً 450 تک ہے۔

طلبا کے والدین اور اساتذہ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے یہاں 15000 تک طلبا اور طالبات کی تعلیم متاثر ہوگی۔

ادھر ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا میں ڈائریکٹر چمپا پٹیل نے پاکستانی حکومت کے اس اقدام کو سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔

ادارے کی جانب سے جاری تحریری بیان میں ترک اساتذہ کو پاکستان چھوڑنے کے حکم کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ 'دو کروڑ 40 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے، پاکستان میں پاک ترک انٹرنیشنل سکول اینڈ کالج کے اساتذہ کو ملک سے نکالنے کے فیصلے کا نقصان پاکستانی بچوں کو ہی ہوگا۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فتح اللہ گولن کی تحريک کے زيرِانتظام سکولوں کے تُرک عملے کو پاکستان چھوڑ دينے کا حکم۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'پاکستان کو ترک حکومت کی خوشی کے لیے سیاسی مقاصد پر مبنی فیصلے کے تحت اساتذہ کو نکالنے کی نہیں زیادہ کلاس رومز اور اساتذہ کی ضرورت ہے۔'

ہیڈ ٹیچر عشرت کا کہنا تھا کہ وہ اتنے عرصے سے یہاں کام کر رہے ہیں ان کے بچے اچھے ماحول میں پڑھ رہے ہیں انھوں نے کوئی ایسی نا مناسب حرکت نہیں دیکھی جس سے انھیں کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر انھیں ایسا لگتا کہ یہ اساتذہ جہادی تنظیموں سے ہیں یا ان میں کوئی اور بات ہوتی تو وہ کبھی اس بارے میں کچھ نہ کہتے وہ حکومت کا فیصلہ تسلیم کرتے۔

انھوں نے کہا کہ 'ملک بدر کرنے کا کیا مطلب ہے کیا یہ لوگ کوئی دہشت گرد تھے کہ انھیں صرف تین دنوں میں ملک سے نکل جا نے کا کہا جا رہا ہے تو بتائیں اس کے اثرات ان بچوں اور اساتذہ پر کیا پڑیں گے ، ہم اساتذہ کا وقار چاہتے ہیں۔'

اس کانفرنس میں موجود اس سکول سے وابستہ پاکستانی استاد وسیم اقبال کا کہنا تھا کہ پاک ترک سکول پاکستان بھر میں بہتر تعلیم فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس طرح کے فیصلوں سے بچوں کے ذہن پر برے اثرات پڑیں گے۔

یوسف علی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور تعلیم کے شعبے سے بھی منسلک ہیں۔

یوسف علی کے تین بچے پاک ترک سکول میں زیر تعلیم ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ بڑی تحقیق کے بعد انھوں نے اپنے بچوں کے لیے بہترین سکول کا انتخاب کیا تھا اور وہ اس فیصلے سے خوش تھے کیونکہ اس سکول میں ان کے بچوں تعلیم و تربیت اعلیٰ معیار کی رہی ہے۔

یوسف علی نے بتایا کہ ان سے جب کہا گیا کہ یہ ترک اساتذہ چلے جائیں گے تو اور آ جائیں گے انھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بچے ہیں مشینیں نہیں ہیں کہ پرزے تبدیل کر دیے جائیں۔ بچے وسط تعلیمی سال میں اساتذہ کی تبدیلی سے ذہنی طور پر متاثر ہوتے ہیں اور اب ان اساتذہ کے بارے میں جو باتیں سامنے آئی ہیں بچوں کے ذہن پر اس کے اثرات پڑتے ہیں۔ ‘

پشاور میں پاک ترک سکول دو کنال کے مکان میں قائم کیا گیا تھا اور اب پشاور کے بڑے رہائشی علاقے حیات آباد میں پاک ترک سکول کا بڑا کیمپس ہے جہاں بڑی تعداد میں طلبا اور طالبات زیر تعلیم ہیں۔

پشاور میں اساتذہ اور والدین نے گذشتہ روز حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا جبکہ آج پشاور ہائی کورٹ میں اس حوالے سے ایک درخواست بھی پیش کی جانا تھی لیکن اس پر عمل نہیں ہو سکا۔

اسی بارے میں