گڈانی کا ویران شپ بریکنگ یارڈ اور بےروزگار مزدور

’وہ پیٹ کے لیے جہاز پر گئے تھے انھیں کیا معلوم تھا کہ یہ حادثہ ہو جائے گا، میرے دونوں بازو ٹوٹ گئے ہیں۔‘

بابل سرمستانی کے بیٹے ان افراد میں شامل ہیں جو گڈانی میں آئل ٹینکر میں آگ لگنے سے ہلاک ہوئے اور وہ اپنے بیٹوں کی ہلاکت کا ذمہ دار سیٹھ اور حکومت کو سمجھتے ہیں۔

٭ گڈانی میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہو گئی

بابل سرمستانی حب موڑ کے میدانی علاقے میں اپنی برادری کے ساتھ رہتے ہیں۔ 40 گھروں پر مشتمل اس خاندان کے 13 نوجوان اس جہاز میں مزدوری کے لیے گئے تھے، جن میں سے 4 ہلاک ہوئے، ایک لاپتہ ہے اور 3 زیر علاج ہیں۔

بابل نے بتایا کہ چھوٹے بیٹے غلام حیدر کی لاش سول ہپستال میں ملی تھی جبکہ عالم زیر علاج تھا بعد میں زخموں کی تاب نہ لاکر فوت ہو گیا۔

اس غریب برداری کے گھر لکڑی کے تختوں اور بانسوں سے بنے ہوئے ہیں، اندر کوئی فرنیچر نہیں۔ صرف مرچ مصالحے کی کچھ ڈبیاں، پینے کے پانی کے لیے کولر یا مٹکہ موجود ہے۔ کپڑے پوٹلی میں بندھے ہوئے یا ٹنگے ہوئے تھے۔

گڈانی جانے والی ہر گاڑی ان کی بستی کے سامنے سے گذرتی ہے لیکن وزرا اور حکام میں سے یہاں کوئی نہیں آیا۔ بابل کے مطابق وہ غریب لوگ ہیں اس لیے ان کے پاس کوئی نہیں آتا اور حکومت بھی کوئی تعاون نہیں کر رہی ہے۔

Image caption امام بخش کا اکلوتہ بیٹا اس حادثے میں ہلاک ہوگیا۔

امام بخش کے دونوں گردے خراب ہو چکے ہیں اور ان کا اکلوتا بیٹا اس حادثے میں ہلاک ہو گیا۔

انھوں نے بتایا کہ انھیں انتظار تھا کہ بیٹا رات کو واپس آ جائے گا اور جب رات کو نہ آیا تو سوچا صبح کو آئے گا لیکن صبح کو کسی نے بتایا کہ جہاز میں دھماکہ ہوا ہے۔ وہ سڑک کی طرف دوڑے تو دیکھا ایمبیولینسوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں اور انھیں معلوم ہوا ان کے لڑکے بھی اسی جہاز میں موجود تھے۔

اُن کے مطابق اُس کے بعد کوئی کدھر دوڑا کوئی کدھر گیا۔ ’میں پریشان ہوگیا کہ بیمار آدمی کہاں جاؤں بعد میں ہپستال سے فون آیا کہ میرا اکلوتا بیٹا ہلاک ہو گیا۔ ہم دس کھانے والے ہیں وہ صرف ایک ہی کمانے والا تھا اب حکومت ہماری کوئی مدد کرے۔‘

شپ بریکنگ لیبر یونین کے مطابق تاحال کم از کم دس لوگ لاپتہ ہیں جن میں گڈانی موڑ کے سوالی گوٹھ کا شیر داد بھی شامل ہے۔

خیر محمد کا چھوٹا بھائی شیر داد دیگر رشتے داروں کے ساتھ جہاز پر گیا تھا لیکن وہ لاپتہ ہے۔

Image caption اس حادثے کے بعد دو جہازوں کی آمد ہوچکی ہے لیکن صوبائی حکومت کے حکم پر کام معطل ہے،

خیر محمد کے مطابق بھائی کی لاش ملی ہے اور نہ ہی زخمی یا سلامت حالت میں آیا ہے۔ انھوں نے سول ہسپتال اور ایدھی سرد خانہ چھان مارا ہے لیکن کچھ معلوم نہیں ہو رہا ہے جبکہ حکام کی طرف سے بھی کوئی مدد نہیں کی جارہی۔

اسی تلاش کے دوران وہ فیکٹری سے بھی نکال دیے گئے ہیں جہاں وہ مستری کا کام کرتے تھے۔

حب تحصیل ہپستال میں تین زخمی زیر علاج ہیں۔ ان میں سے ایک زخمی میر حسن نے بتایا کہ وہ ٹینک نمبر 2 میں تیل نکال رہے تھے کہ اچانک ایک خوفناک آواز آئی اور اندھیرا ہوگیا اس کے ساتھ دھماکہ ہوا انھوں نے سمندر میں چھلانگ لگائی اس کے بعد وہ بے ہوش ہو گئے اور ہسپتال میں انھیں ہوش آیا۔

گڈانی شپ بریکنگ کے پلاٹ نمبر 54 پر موجود آئل ٹینکر سے منگل کو سولھویں روز بھی دھواں نکل رہا تھا۔

فلاحی ادارے ایدھی کے رضاکاروں نے چار روز کے بعد لاشوں کی تلاش بند کردی تھی جبکہ ضلعی حکام جہاز کی آگ بجھا سکے اور نہ لاپتہ افراد کی تلاش میں مدد فراہم کر سکے ہیں۔

اس حادثے کے بعد دو جہازوں کی آمد ہو چکی ہے لیکن صوبائی حکومت کے حکم پر کام معطل ہے۔ ایک مزدور محمد علیم نے بتایا کہ انھوں نے سنا ہے کہ ’جب تک سہولیات فراہم نہیں ہوں گی کام شروع نہیں ہوگا۔ ہر مزدور کو سیفٹی دی جائے یہاں اچھا ہسپتال ہو کیونکہ ہسپتال ہے اور نہ ایمبولینس۔ خدا کرے کوئی قانون سازی ہو تاکہ مزدور اچھے طریقے سے کام کرسکیں جو رات کو تین چار بجے تک کام لیتے ہیں اس سے نجات ملے۔ ‘

گڈانی شپ بریکنگ میں 5 ہزار سے زائد مزدور کام کرتے ہیں ان دنوں یہاں ویرانی ہے کیونکہ مزدوروں کی ایک بڑی تعداد یہاں سے جاچکی ہے۔

مظفر گڑھ کے رہائشی محمد ادریس کہنا تھا کہ گھر والے کہتے ہیں کہ یہ کام خطرناک ہے گھر واپس آجاؤ لیکن تنخواہ نہیں مل رہی بس یہ کہہ رہے ہیں کل یا پرسوں کام شروع ہو جائے گا وہ اس لیے رکے ہوئے ہیں کہ تنخواہ ملے تاکہ وہ گھر جائیں۔

انھوں نے بتایا کہ مظفر گڑھ میں مزدوری کم ہے، وہاں تین سے چار سو روپے ملتے ہیں جبکہ یہاں ساڑھے سات سو روپے دہاڑی ہے۔ مہینے میں 30 ہزار ہو جاتے ہیں جن میں سے 20 ہزار وہ گھر بھیج دیتے ہیں۔

Image caption گڈانی جانے والی ہر گاڑی مزدوروں کی بستی کے سامنے سے گذرتی ہے لیکن وزرا اور حکام میں سے یہاں کوئی نہیں آیا۔

شپ بریکنگ لیبر یونین کے صدر بشیر محمودانی کا کہنا ہے کہ تقریباً ستر فیصد مزدور یہاں سے چلے گئے ہیں کیونکہ یہ معلوم نہیں ہے کہ کام کب شروع ہوگا۔

دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اتنے بڑے حادثے کے بعد اہل خانہ بھی انھیں دیکھنا چاہتے ہیں اس لیے جس کے پاس پیسے نہیں تھے وہ قرضہ لے کر گئے اور دوسرے یہاں تنخواہ کے انتظار میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’موجودہ صورتحال میں دونوں طرف سے ہم ہی مارے جا رہے ہیں۔ زخمی اور ہلاک مزدور ہوئے، لاپتہ اور بیروزگار بھی مزدور ہی ہیں۔ یہ حادثہ سیفٹی نہ ہونے کی وجہ سے ہوا۔ اس کے ذمے دار شپ بریکر اور ٹھیکیدار ہیں اور مزدور جو بیروزگار ہوئے ہیں اس کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ حکومت کو ہم کہہ رہے ہیں آپ سیفٹی فراہم کرو تاکہ جلد از جلد کام شروع ہو۔‘

لسبیلہ کے ڈپٹی کمشنر اور شپ بریکرز کے درمیان مذاکرات میں ہلاک ہونے والوں کے لیے 10 لاکھ روپے اور زخمی کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضے پر اتفاق ہوا ہے تاہم دوسری جانب زمین پر مالکان کی انتقامی کارروایوں کی بھی شکایات آرہی ہیں۔

واقعے کے بعد احتجاج میں شریک ایک مزدور نے بتایا کہ ٹھیکیدار کہتا ہے کہ حاضری نہیں لگاؤں گا۔ ’جو بھی حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اس کا کارڈ بند کر دیا جاتا ہے اور دوسرا کوئی ملازمت پر نہیں رکھتا مجبوراً اسے گڈانی سے جانا پڑ جاتا ہے۔‘

Image caption شپ بریکرز کے درمیان مذاکرات میں ہلاک ہونے والوں کے لیے 10 لاکھ روپے اور زخمی کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضے پر اتفاق ہوا ہے

اسی بارے میں