زبانِ یار من ترکی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ترکی کے صدر جناب طیب اردوغان، آج کل پاکستان کے دورے پہ ہیں۔ ہم بڑے مہمان نواز لوگ ہیں اور جب مہمان دوست بھی ہو تو دل کی کلی کِھل کے گلاب کیا پورا گلستان بن جاتی ہے۔ قاعدہ ہے کہ بعض اوقات انسان زیادہ خوشی میں قابو سے باہر ہو کر کچھ ایسی حرکتیں کر جاتا ہے کہ بعد میں خود ہی دل پہ بوجھ ہوتا ہے کہ میں یہ کیا کر بیٹھا۔

ترکی سے ہمارا کیا تعلق ہے یہ تو مت پو چھیے۔ سنا ہے ہمارے اب و جد جب بخارا سے مار دھاڑ کرتے ہندوستان آئے تو ان کو ترک ہی کہا جاتا تھا۔ وہ تو بھلا ہو ' لارنس آف عریبیہ ' کا کہ اس نے ہماری ترکی تمام کی اور ہمیں اپنے عربی النسل ہونے کا یقین آیا۔

تاریخ کا پرچہ کبھی ' تحر یکِ خلافت' کے بغیر نہ آیا اور اس کے جواب میں یہ شعر لکھنا ہم بھی نہ بھولے،

'بولیں بی اماں محمد علی کی

بیٹا ، جان خلافت پہ دے دو'

ہمارے ہاں کھائے جانے والے کوفتے کباب بھی ترکی۔ ناموں کا تو پوچھیں ہی مت، مشہورِ زمانہ نام ' رضیہ' سے لے کر آج کل کثرت سے رکھے جانے والے نام ' مہر مہ فاطمہ' تک سب ترکی ہیں۔

پچھلے دنوں چلنے والے ایک ترکی ڈرامے'میرا سلطان' نے تو ہمارے ہاں کے موجودہ فیشن تک کو متاثر کیا۔ شادیوں میں لڑکیاں سروں پہ عجیب و غریب زیورات ٹانگے، لمبے لمبے ملبوسات جھلاتی، عین مین ترکی حسینائیں لگتی ہیں۔ ٹرکش ڈیلائٹ کون کافر شوق سے نہیں کھاتا؟ ترکی کی سیاحت، ہر سیاح کی خواہشوں کی فہر ست میں سب سے اوپر ہوتی ہے۔

قصہ مختصر، ترکی ہمارا برادر اسلامی ملک ہے۔ کافی سال پہلے، اسی سکول کی ایک تنظیم کے تحت، کچھ سکول شروع کیے گئے۔ وقت کا کام گزرنا ہے، وقت گزر گیا، دو دہائیوں کے بعداچانک احساس ہوا کہ ان سکولوں کو بند کر دینا چاہیے، کیونکہ مبینہ طور پہ ان سکولوں کو چلانے والی تنظیم، ترکی کی مو جودہ حکومت کا تختہ الٹنا چاہتی تھی۔

سکولوں کی انتظامیہ تبدیل ہوئی اور ان کے اساتذہ کو تین روز کے اندر ملک چھوڑنے کا کہا گیا۔ یہ چار سو کے قریب لوگوں کا المیہ ہے۔ ترکی جا کر ان کے ساتھ کیا سلوک ہو گا، یہ بھی ابھی واضح نہیں، لیکن قرائن کہتے ہیں کچھ اچھا نہیں ہو گا۔ اس سب معاملے پہ، پاکستانی صحافی شور مچا رہے ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں اتنے لوگ ایک بم دھماکے میں مار دیے جاتے ہیں، وہاں چار سو لوگوں کی جبری رخصت ، اعصا ب پہ شاید اس طرح اثر انداز نہ ہو پائے۔ لیکن بہر حال صحافی اپنی سی کر رہے ہیں اور کرتے ہی رہیں گے۔

یہاں میرے ذہن میں ایک سوال اٹھا، اور وہ یہ کہ جن اساتذہ کو نکالا جا رہا ہے اور جو سکول بند کیے جارہے ہیں، کیا اتنے عرصے تک جو کچھ وہ پڑھا چکے ہیں، ان کا اثر خطر ناک ثابت نہیں ہو گا؟ ایسے ضرر رساں ادارے، اتنے عرصے تک عین ہماری ناک کے نیچے کیوں چلتے رہے؟ اور اگر یہ ادارے بے ضرر تھے، تو ان کو اس افرا تفری میں بند کیوں کیا گیا؟

یہ کچھ ویسی ہی صورتِ حال ہے جیسی افغان مہاجرین کی ہے۔ پہلے تو ان مہاجرین کو انصار بن کر گلے سے لگا لیا گیا، اور جب یہ گلے کا ہار دم گھونٹنے لگا تو اچانک، ایک اعلان کے ذریعے ان ' غیر ملکیوں' کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔ نہ ان کو بلاتے ہوئے کوئی پالیسی بنائی گئی۔ نہ ان کو بھیجنے سے پہلے یہ دیکھاگیا کہ آج ان کی دوسری نسل جوان ہو رہی ہے۔ کیا وہ خود کو مہاجر سمجھتے ہیں؟

پاک ترک سکول کھولتے ہوئے بھی ہم پہ اسلامی بھائی چارہ سوار ہو گا اور یقیناََ آج بھی سب کچھ خیر سگالی کے جذبے کے تحت کیا گیا۔ محبت، اخوت، بھائی چارہ، بہت پیارے جذبے ہیں۔ لیکن جذبوں کی حد وہاں ختم ہو جانی چاہیے، جہاں قومی مفاد آ جائے۔

کیا ان سکولوں کا کھلنا، پاکستان کے مفاد میں تھا؟ اگر نہیں ، تو ان کو کھولا ہی کیوں گیا۔ اور اگر اس میں پاکستان کا مفاد تھا، تواس طرح لشتم پشتم ان لو گوں کو نکالنے کے کیا معنی؟

پاکستان کی تعلیمی پالیسی اس وقت چوں چوں کا مربہ ہے۔ دھڑادھڑ کھلنے والی یو نیورسٹیاں اور میڈیکل کالج، اسی سوچ کے تحت رجسٹرڈ کیے جا رہے ہیں کہ ابھی کسی کو اعتراض نہیں، جب کوئی پو چھے گا تو بند کر دیں گے۔ اس کھولنے، بند کرنے، بند کر کے کھولنے میں کوئی یہ نہیں سوچتا کہ ایک پو ری نسل کا مستقبل داؤ پر ہے۔ نہ ایک تعلیمی ادارے کا شروع ہونا کوئی کھیل ہے اور نہ ہی اسے عجلت میں بند کرنا کوئی احسن فعل۔

ہر دو صورتوں میں یہ ہی نظر آتا ہے کہ پاکستان کو چلانے والے، عقل کی بجائے، جذبات سے کام لیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے ہیں۔ اس طرح کے افراد پرانی فلموں میں اپنی کرنیوں پہ درختوں کے تنوں سے لپٹ لپٹ کر روتے نظر آتے ہیں۔ مگر یہاں ہم جس تیزی سے درخت کاٹ رہے ہیں ، کل کو رونے کے لیے کس کا کندھا تلاش کریں گے؟ ہمارے اپنے کندھے توجب تک دوسروں کی رکھی ہوئی بندوقیں چلا چلا کر بے کار ہو چکے ہوں گے۔