جنرل راحیل کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے الوداعی ملاقاتیں شروع

جنرل راحیل تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی بّری فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے مدت ملازمت پوری ہونے سے پہلے الوداعی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل راشد محمود نے بھی چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ سے الوداعی ملاقات کی ہے۔

پیر کو فوج کے شبعہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ جنرل راحیل نے لاہور سے الوداعی ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے بّری فوج کے نئے سربراہ کا نام تاحال سامنے نہیں آیا ہے جبکہ نئے سربراہ نے 29 نومبر کو اپنی ذمہ داریاں سنبھالنی ہیں۔

نیا فوجی سربراہ کون ہوگا؟

لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کے بیان کے مطابق جنرل راحیل نے لاہور گریژن میں فوج اور رینجرز کے اہلکاروں اور افسران کی ایک بڑی تعداد سے ملاقات کی اور ان سے خطاب کیا۔

ٹوئٹر پر بیان میں مزید کہا گیا کہ جنرل راحیل نے اس موقع پر کہا ہے کہ امن و استحکام حاصل کرنا معمولی ہدف نہیں تھا تاہم قربانیوں اور مشترکہ قومی عزم سے کامیابیاں ملیں۔

یاد رہے کہ جنرل راحیل شریف نے 29 نومبر 2013 کو بری فوج کے سربراہ کے عہدہ سنبھالا تھا اور فوج کے 15ویں سربراہ ہیں۔

رواں برس جنوری میں ان کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں لیں گے اور وقت پر ریٹائر ہوں گے۔

جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ'پاکستانی فوج ایک عظیم ادارہ ہے۔ میں ایکسٹینشن میں یقین نہیں رکھتا۔'

خیال رہے کہ حالیہ دنوں ملک میں ایک بار پھر جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں ممکنہ توسیع یا فوج کے نئے سربراہ کے حوالے سے مختلف حلقوں میں باتیں ہو رہی تھیں جس میں مقامی میڈیا میں حکومت کے وزرا سے متعدد بار ممکنہ توسیع یا نئے آرمی چیف کے بارے میں سوالات پوچھے گئے تھے۔

پاکستان کا نیا فوجی سربراہ کون ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سینیارٹی لسٹ کے مطابق سب سے پہلا نام ہے لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات کا ہے جو فی الحال جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل سٹاف کے عہدے پر فائز ہیں۔

اِس کے بعد دوسرا نام لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد کا ہے جو کور کمانڈر ملتان ہیں اور اِس سے قبل چیف آف جنرل اسٹاف رہ چکے ہیں۔

اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے فی الحال کور کمانڈر بہاولپور ہیں لیکن اِس سے قبل سوات آپریشن کے دوران جی او سی رہ چکے ہیں۔

آخر میں لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں جو آج کل جی ایچ کیو میں انسپیکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن ہیں۔ اِس سے قبل 2014 میں دھرنے کے دوران وہ کور کمانڈر راولپنڈی رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں