پشاور میں دھماکہ، فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پشاور میں متعدد بار شدت پسندی کے واقعات میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا چکا ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں دیسی ساختہ باردوی سرنگ کے دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے تین اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق پشاور کے علاقے بشیر آباد میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار اپنی گاڑی کے قریب کھڑے تھے کہ اس دوران وہاں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں تین اہلکار ہلاک اور آٹھ زخمی ہو گئے۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق ایس پی پشاور سٹی گل نواز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کا نشانہ بننے والے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار پیر کو پیغمبرِ اسلام کے نواسے امام حسین کے چہلم کے موقع پر سکیورٹی انتظامات کے لیے تعینات تھے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ اہلکار منگل کو واپس اپنی بیرکس میں جا رہے تھے کہ اس دوران انھیں دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے میں ایک کلوگرام تک باردوی مواد کا استعمال کیا گیا۔

خیال رہے کہ پشاور میں چہلم کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس موقع پر موبائل سروس بھی معطل رہی۔

بشیر آباد کے علاقے میں پہلے بھی دیسی ساختہ باردوی سرنگوں کے دو سے زائد دھماکے ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں