جنرل راحیل نے 10 شدت پسندوں کی سزائے موت کی توثیق کر دی

پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے مزید 10 شدت پسندوں کو فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔

منگل کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ایک بیان کے مطابق سزاے موت دیے جانے والوں میں فوجیوں کے سر قلم کرنے والا ایک مجرم بھی شامل ہے۔

یہ توثیق ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنرل راحیل شریف نے 28 نومبر کو اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل الوداعی ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔

بیان کے مطابق ان 10 شدت پسندوں پر مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، تعلیمی اداروں اور مواصلاتی انفراسٹرکچر کی تباہی میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ان کے قبضے سے ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق سزائے موت پانے والوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حنیف ولد عمر زرین شامل ہیں جن پر ایس ایس جی گروپ کے کیپٹن جنید خان، کیپٹن نجم ریاض راجہ، نائک شاہد رسول اور لانس نائک شکیل احمد کو اغوا کرنے اور سر قلم کرنے کا الزام تھا۔

بیان کے مطابق ملزم نے میجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption توثیق ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب جنرل راحیل شریف نے 28 نومبر کو اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل الوداعی ملاقاتیں شروع کر دی ہیں

ان کے علاوہ خیبر قبائلی علاقے میں سرگرم لشکر اسلام شدت پسند تنظیم کے فعال مبینہ رکن تیرہ گل ولد خان اور محمد ولی ولد فولاد خان کو بھی سزاے موت سنائی گئی ہے۔ ان پر حولدار نور مست، نائک فرمان سلی، نائک شبیر اختر، سپاہی ہمایون، سپاہی فخر عالم، سپاہی اسماعیل کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ بیان کے مطابق ملزمان نے بھی مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم بھی کیا ہے۔

دیگر سزا پانے والوں میں ٹی ٹی پی کے خیستہ محمد ولد عبدالجیل، علی رحمان ولد حبیب الرحمان، فضل علی ولد فضل واحد، محمد علی ولد عبدالرحمان، نثار علی ولد دمساز خان، خیال جان ولد سیال جان اور پایو جان ولد اصل جان شامل ہیں۔ ان پر بھی فوجیوں پر حملے اور انہیں ہلاک کرنے کے الزامات تھے۔

پشاور سکول حملے کے بعد حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے 11 فوجی عدالتیں قائم کی تھیں۔ اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت قائم ان عدالتوں کی مدت آئندہ برس جنوری میں ختم ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں