کراچی ایئر پورٹ حملے کی ازسرِنو تحقیقات

کراچی کے جناح انٹرنیشل ایئرپورٹ پر حملہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کراچی کے جناح انٹرنیشل ایئرپورٹ پر حملے میں یکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے اُن مبینہ دس شدت پسندوں کے نمونے حاصل کر لیے ہیں جو دو سال قبل کراچی کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں ملوث تھے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نئی تحقیقات فوج، رینجرز اور قوال امجد فرید صابری کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کے بیانات کی روشنی میں شروع کی ہیں۔

ان مقدمات میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان عاصم احمد عرف کیپری اور اشتیاق عرف بوبی نے تفتیش کے دوران بتایا تھا کہ اُن کے رشتہ دار احتشام اور دوست ماجد اُن دس مبینہ شدت پسندوں میں شامل تھے جو دو سال قبل کراچی کے ہوائی اڈے پر حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔

ان مبینہ شدت پسندوں کے ڈی این اے کے نمونے منگل کے روز اُن کی قبرکشائی کے بعد حاصل کیے گئے ہیں۔ ان مبینہ دس شدت پسندوں کو وقوعہ کے بعد ایدھی فاونڈیشن کے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔

ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے شدت پسندوں کی لاشوں کے نمونے حاصل کرنے کا عمل ڈاکٹروں کی ٹیم نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں مکمل کیا۔

اس موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور قبرستان کے ارد گرد لوگوں کی آمدورفت کو محدود کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ سنہ 2014 میں شدت پسندوں نے کراچی کے جناح انٹرنیشل ایئرپورٹ پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں پر تعینات ایئر پورٹ سیکیورٹی فورسز کے گیارہ اہلکاروں سمیت 19 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ وہاں پر کھڑے تین طیاروں کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے پہلے اس حملے کی ذمہ داری قبل کی تھی

پاکستانی کی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں دس مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے آٹھ غیر ملکی تھے۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے مطابق اس حملے میں ملوث افراد کا تعلق ازبکستان سے تھا۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے پہلے اس حملے کی ذمہ داری قبل کی تھی جبکہ کچھ دنوں کے بعد کالعدم تنظیم اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے اس کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔

اس حملے کے بعد پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے حکومت کی رضامندی کے بعد شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا تھا۔

اسی بارے میں