پی آئی اے کی جدید طیاروں پر نظریں

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ کی انتظامیہ ان دنوں فضائی کمپنی کے لیے 17 نئے طیارے حاصل کرنے کے لیے طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور ایئربس سے مذاکرات کر رہی ہے۔ ان میں سے سات وائڈ باڈی یعنی بڑے طیارے جبکہ دس نیرو باڈی یعنی کم مسافت تک سفر کرنے والے طیارے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک بات جو قابلِ غور ہے وہ یہ کہ پہلی بار پی آئی اے یورپی طیارہ ساز ایئربس کی جانب مائل ہو رہی ہے اور اس کے بیڑے میں طیاروں کی اکثریت یورپی طیارہ سازوں ایئربس اور اے ٹی آر کی ہے۔

پی آئی اے کیا چاہتی ہے؟

Image caption پی آئی اے کا وائڈ باڈی بوئنگ 777 طیارہ

پی آئی اے کی خواہش ہے کہ یہ طیارے اسے سستے ملیں اور جلد از جلد مل جائیں اور ایسے ہوں جسے پی آئی کا موجودہ نظام آسانی سے نہ صرف استعمال کر سکے بلکہ ان کی مرمت اور دیکھ بھال بھی کر سکے۔

مثال کے طور پر طیاروں کے انجن اس کمپنی کے ہوں جو پی آئی اے پہلے سے استعمال کر رہی ہے اور اس کے اڑانے کے لیے پی آئی اے کو پائلٹ اور عملے کی تربیت پر بہت زیادہ خرچ نہ کرنا پڑے۔

اس کے علاوہ پی آئی اے کی انتظامیہ کے مطابق کمپنی کو ایسے طیارے چاہیں جو 250 سے 300 تک مسافر طویل فاصلے کی پروازوں پر بھی نان سٹاپ پرواز کر سکیں جیسا کہ ٹورانٹو یا نیو یارک ہے۔

نیرو باڈی طیاروں میں پی آئی اے کے اعلیٰ اہلکار اپنے A320 طیاروں سے بہت خوش ہیں مگر کچھ کا خیال ہے کہ پی آئی آئے دس طیاروں میں کچھ A321 طیارے ہوں جبکہ کچھ چھوٹے A319 طیارے بھی حاصل کرنا چاہتی ہے جو کہ ملک کے اندر پروازوں کے لیے بہت موزوں ہیں۔ پی آئی اے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہیں اس رینج کے طیاروں میں ورائٹی چاہیے یعنی مختلف نشستوں کی تعداد والے طیارے۔

وائڈ باڈی طیاروں کے حوالے سے پی آئی اے کی انتظامیہ میں مختلف اہلکاروں سے گفتگو کے نتیجے میں جو صورتحال سامنے آتی ہے وہ کچھ یوں ہے۔

پی آئی اے کی کن طیاروں پر نظر ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Airbus
Image caption ایئربس کے تیار کردہ مختلف طیارے

پی آئی اے نے فروری 2012 میں پانچ بوئنگ 777-300ER طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا جبکہ پانچ مزید طیاروں کی خریداری کے حقوق یعنی purchase rights حاصل کیے۔ پی آئی اے نے اب تک ان طیاروں کی ڈلیوری کو موخر کیا ہے۔

اگست میں بوئنگ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے حکومتِ پاکستان کو لکھا کہ وہ بوئنگ 777 کی جگہ بوئنگ کا جدید طیارہ 787 لے لیں۔

اس کے بعد 6 ستمبر کو پی آئی اے کے چیئرمین نے بی بی سی کو بتایا کہ بوئنگ سے 787 حاصل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ کیا پی آئی اے اپنے اس فیصلے پر نظرِثانی کر رہی ہے یا دوسرے آپشن دیکھ رہی ہے؟

پی آئی اے کے پاس آپشن کیا ہیں؟

پی آئی اے کی آپریشنل ضروریات اور مارکیٹ میں دستیاب طیاروں اور اعلیٰ عہدیداروں سے گفتگو کے نتیجے میں مندرجہ ذیل طیارے ایسے ہیں جو پی آئی اے کی شاپنگ لسٹ کا حصہ ہیں۔

ایئر بس کا A330A330 اور A330-neoA330-neo

تصویر کے کاپی رائٹ Airbus
Image caption ایئر بس کا A330 طیارہ

اگر ماہرین کی رائے اور پی آئی اے کے سیئنیر اہلکاروں کی رائے سے اندازہ لگایا جائے تو ان کا ووٹ ایئر بس کے دو انجنوں والے طیارے کے حق میں ہے جو دوسرے طیاروں سے 35 فیصد سستا بھی ہے۔ دوسری جانب پی آئی اے ان دنوں سری لنکن ایئر ویز سے ویٹ لیز پر حاصل کردہ ایک ایئر بس A330 پہلے سے استمعال کر رہی ہے جو اس کی پریمیئر سروس کا واحد سہارہ ہے۔ جس کے ساتھ کا ایک اور طیارہ دسمبر 2016 میں پی آئی اے کے بیڑے کا حصہ بنے گا جبکہ موجودہ صورتحال کے مطابق ایک یا دو مزید A330 پی آئی اے سرلنکن سے حاصل کرے گی۔

ایئر بس نے A330 کو نئے انجن کے ساتھ مزید بہتر کیا ہے اور یہ طیارہ 257 اور 287 نشستوں کے ساتھ دستیاب ہو گا جس کی رینج یعنی پرواز کی حد بھی بڑھائی گئی ہے۔

پی آئی اے پہلے سے ائیر بس کے A310 اور A320 طیارے استعمال کر رہی ہے جو اس کے آپریشن کے لیے بہت مناسب ہیں جس کی وجہ سے پی آئی اے چاہے گی کہ وہ A330 طیارے حاصل کرے۔

مگر مشکل یہ ہے کہ مارکیٹ میں روایتی A330 سی ایف ایم انجن کے ساتھ اچھی حالت میں بہت کم ہیں۔ اور اے تھری تھرٹی نیو فی الحال صرف رولز روئس انجن کے ساتھ دستیاب ہیں جو کہ سری لنکن کے طیارے بی استعمال کرتے ہیں۔

بوئنگ 777 یا 777 XX

تصویر کے کاپی رائٹ Boeing
Image caption بوئنگ 777 کا نیا ورژن 777 ایکس

پی آئی اے بوئنگ 777 طیارے کے تینوں ورژن پہلے سے استعمال کر رہی ہے مگر بوئنگ اب ان طیاروں کی اگلی نسل کے پر کام کر رہی ہے جنہیں اس نے ایکس سیریز کا نام دیا ہے۔ پی آئی اے میں مختلف عہدیداروں سے بات کرنے سے جو بات واضح ہوتی ہے کہ وہ یہ ہے کہ پی آئی اے سمجتھی ہے کہ اسے اتنے بڑے طیارے کی ضرورت نہیں جس سے بھرنے کے لیے اس کے پاس اتنے وسائل نہ ہوں۔ مگر اس نے ان طیاروں کا آرلار دیا ہوا ہے جس کی بنیاد پر شاید وہ یہ طیارے مستقبل کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے لینے پر قائم رہے یا انہیں ایکس میں تبدیل کر لے۔ کیونکہ ٹرپل سیون طیاروں میں نشستوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے جسے پُر کرنے کے لیے پی آئی اے کے پاس چند یورپی روٹ ہیں یا پھر سعودی عرب کے روٹ جن میں حج اور عمرہ کے مسافر نمایاں ہیں۔

بوئنگ 787ڈریم لائنر

تصویر کے کاپی رائٹ Christopher Jue

پی آئی اے کے چیئرمین اگرچہ بوئنگ 787 طیاروں کے خریدنے کے حوالے سے فیصلے کا اعلان کر چکے ہیں مگر پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی یہ معاملہ حتمی نہیں ہے کیونکہ 787 ایک نیا طیارہ ہے اور بہت مہنگا طیارہ ہے جس کو چلانے کے لیے پی آئی اے کو اپنے شعبہ جات میں بہت ساری تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔ مگر یہ کچھ ایسا نہیں جو پی آئی اے پہلے نہ کر چکی ہو کیونکہ بوئنگ 777 بھی پی آئی اے کے لیے نیا طیارہ تھا جو اب اس کے فضائی آپریشن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس حوالے سے سوال یہ سوال یہ بھی ہے کہ کیا پی آئی اے اپنے آپریشنز اور انجنیئرنگ میں ایسی تبدیلیاں لانے کو تیار ہے جن سے ایسے جدید composite میٹیریل سے بنے طیارے اچھی حالت میں رکھے جا سکیں کیونکہ یہ 787 ٹرپل سیون نہیں جن کا حشر ہم ہر پرواز پر دیکھتے ہیں۔

ایئر بس A350XWBA350XWB

ایئر بس کا نیا اور جدید طیارہ ہے جس کے کم و بیش وہی مسائل ہیں جو بوئنگ 787 کے ہیں یعنی ایک نیا طیارہ، نیا نظام نئے انجن اور اس سے جڑے تمام مسائل مگر سب سے اہم بات ہے کیا یہ طیارہ پی آئی اے کے لیے مناسب ہے؟ کیونکہ اگر ٹرپل سیون پی آئی اے کے لیے بڑا ہے تو اس طیارے میں بھی نشستوں کی تعداد 300 سے زیادہ ہے جو پی آئی اے کو بوئنگ 777 کی صورت میں دستیاب ہے۔

بوئنگ 747-800 انٹرکانٹیننٹل

تصویر کے کاپی رائٹ Boeing
Image caption بوئنگ کا شہرہ آفاق طیارہ جسیے ’کوئین آف سکائز‘ یعنی فضاؤں کا ملکہ کہا جاتا ہے

بوئنگ کے شہرۂآفاق 747 کا نیا ورژن مگر ماہرین کے مطابق اس طیارے کی کمرشل مانگ اتنی نہیں جتنی توقع کی جا رہی تھی اور بوئنگ اب تک صرف پچاس مسافر طیاروں کے ہی آرڈر حاصل کر سکی ہے۔ مگر پی آئی اے اس طیارے کو شاید ہی حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کرے بے شک اسے انتہائی سستے داموں ہی کیوں نہ مل رہا ہو۔

پی آئی اے کے لیے انتہائی اہم ہے کہ وہ ان طیاروں کی خریداری کا فیصلہ جلد از جلد کرے کیونکہ A310 طیاروں کے سروس کے نکلنے کی وجہ سے پی آئی اے کی مشرق بعید، چین اور چند دوسرے روٹس پر چلنے والی پروازوں کے لیے اسے طیاروں کی فوری ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ پی آئی اے کو اندرون ملک بڑھتی ہوئی مانگ کو بھی پورا کرنے کے لیے طیاروں کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے جس میں اب ایک تیسری مقامی فضائی کمپنی نئے طیاروں کے ساتھ پی آئی اے کے مقابلے میں میدان میں اترنے کو تیار ہے۔ مگر ایسا پی آئی اے کی تاریخ میں پہلی بار ہو گا کہ پی آئی اے کا جھکاؤ بوئنگ کی بجائے ایئربس کی جانب زیادہ ہو جائے گا اگر پی آئی اے ایئربس کے ساتھ تمام طیاروں کا سودا کر لیتی ہے۔