مسیحی جوڑے کا قتل: پانچ افراد کو سزائے موت کا حکم

کوٹ رادھاکشن تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک مسیحی میاں بیوی شمع اور شہزاد مسیح کو ہجوم نے تشدد کرنے کے بعد بھٹے میں جلا دیا تھا

پاکستان کے شہر لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک خصوصی عدالت نے توہین قرآن کے الزام میں میاں بیوی کو زندہ جلانے والے پانچ افراد کو سزائے موت اور نو دیگر ملزموں کو دو، دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

لاہور سے صحافی عبدالناصر کے مطابق مسیحی جوڑے کو زندہ جلانے کے 92 دیگر ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔

خیال رہے کہ پنجاب کے ضلع قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں ایک مشتعل ہجوم نے نومبر 2014 میں قرآن کی مبینہ بےحرمتی کے الزام پر اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے ایک مسیحی میاں بیوی شمع اور شہزاد مسیح کو بھٹے میں جلا دیا تھا۔

پولیس کے مطابق دونوں میاں بیوی بھٹے پر ہی رہتے تھے اور اُن کی عمریں 30 سے 35 سال تھیں۔

دوہرے قتل کا یہ مقدمہ لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر دو کے روبرو تقریباً دو سال تک زیر سماعت رہا اور بدھ کے روز اس کا فیصلہ سنایا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق پانچ افراد حافظ اشتیاق، محمد حنیف، عرفان شکور، ریاض اور مہدی خان کو میاں بیوی کے قتل کا براہ راست مجرم قرار دے کر دو دو مرتبہ سزائے دینے کا حکم دیا جبکہ نو دیگر ملزموں محمد حسین، نوید اسلم، ارسلان، لطیف، عارف بشیر، منیر احمد، محمد رمضان، محمد عرفان، حافظ شاہد کو دو دو سال قید کی ساز سنائی ہے۔

عدالت نے 92 دیگر ملزموں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا ہے۔ سزا پانے والے افراد عدالتی حکم کو اعلیٰ عدلیہ میں چیلنج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں