اورکزئی ایجنسی میں کوئلے کی کانیں سات سال سے بند

کوئلہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کوئلہ اورکزئی ایجنسی کا واحد قیمتی ذخیرہ ہے

قدرتی حسن اور معدنیات کی دولت سے مالامال وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں شدت پسندی کے باعث تقریباً سات سال پہلے بند ہونے والے دو سو سے زائد کوئلے کی کانیں بدستور بند پڑی ہیں جس سے ہزاروں مزدور بیروزگاری کا شکار ہوچکے ہیں۔

ان کانوں کی بندش وجہ سے کوئلہ مالکان کو ہر سال کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں امن و امان کو بحال ہوئے چار سال کا عرصہ گزرچکا ہے جبکہ آپریشنوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے اکثریت متاثرین بھی اپنے اپنے علاقوں کو واپس لوٹ چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئلے کے کانوں میں دوبارہ کام شروع نہیں کیا جاسکا ہے۔

کوئلہ مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی اداروں کی طرف سے ابھی تک کوئلے کی کانوں کی مسلسل بندش کی کوئی خاص وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

اورکزئی ایجنسی کے علاقے شیخان میں کوئلے کے ایک کان کے مالک ملک فضل حکیم نے بی بی سی کو بتایا کہ کوئلہ مالکان کی طرف سے حکومت اور سکیورٹی اداروں کو ہر قسم کی ضمانت دی گئی ہے تاہم اس کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہورہی جس سے مالکان سخت مایوسی اور غربت کا شکار ہورہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پہلے ہم ہر سال لاکھوں روپے زکوٰۃ دیا کرتے تھے کیونکہ کاروبار اچھا تھا لیکن اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم خود زکوۃ کے حقدار بنتے جارہے ہیں۔‘

’ہمیں سمجھ نہیں آرہا جب سکیورٹی بھی بحال ہوچکی ہے متاثرین بھی اپنے علاقوں میں واپس آچکے ہیں اور ہر قبیلہ حکومت سے تعاون بھی کررہا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ کانوں میں دوبارہ کام کی اجازت نہیں دی جارہی۔‘

ملک فضل حکیم کے مطابق کانوں کی بندش کی وجہ سے تقریباً دس ہزار افراد بے روزگار ہوچکے ہیں جن میں اکثریت غریب افراد کی ہیں جن میں کان کن، ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیور شامل ہیں۔

اورکزئی ایجنسی میں سنہ 2002 اور 2003 میں کوئلے جیسے قیمتی ذخائر دریافت ہوئے تھے۔ ابتدا میں یہ کاروبار زیادہ منافع بخش نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ جب مختلف علاقوں میں کھدائی کی گئی تو اعلیٰ قسم کا کوئلہ دریافت ہوا۔

اورکزئی ایجنسی کے علاقوں اپر، لوئر اور سینٹرل اورکزئی کے مقامات پر تقریباً 200 کے قریب کوئلے کے کانیں موجود ہیں۔ تاہم اعلی قسم کا کوئلہ شیخان قبیلے کے علاقے میں پایا جاتا ہے جہاں تقربناً 100 سے زیادہ کانیں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ خادی زئی، مشتی اور اہل تشیع کے علاقے کلایہ میں بھی درجنوں کانیں موجود ہیں۔

تاہم سنہ 2007 اور 2008 میں جب ایجنسی میں شدت پسندوں کا اثر رسوخ بڑھا تو علاقے میں رفتہ رفتہ امن عامہ کی صورت حال خراب ہوتی گئی اور اس طرح کوئلے کی کانوں میں بھی کام بند ہوگیا تھا۔

تاہم فوجی آپریشن کے بعد ایجنسی کے تقریباً تمام علاقوں میں حکومتی عمل داری دوبارہ بحال کردی گئی اور نقل مکانی کرنے والے اکثریت افراد اپنے گھروں کو واپس آچکے ہیں۔

اس وقت صرف اورکزئی ایجنسی کے ہیڈکوارٹر کلایہ کی حدود میں واقع کوئلے کانوں میں کام جاری ہے جبکہ دیگر تمام کان بند پڑی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کانوں کی بندش وجہ سے کوئلہ مالکان کو ہر سال کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے

کوئلے کے تاجروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ سات سالوں سے کوئلے کی کانوں میں کوئی کام نہیں ہوا ہے جس سے تمام کان بارش کے پانی اور مٹی سے بھر گئے ہیں اور جس کی دوبارہ آباد کاری ایک بہت بڑا مسلہ ہے جس پر کروڑوں روپے لگ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کوئلہ مالکان کی تنظیم نے چند ماہ پہلے اس وقت کے گورنر سردار مہتاب احمد خان سے ملاقات کی تھی جنھوں نے مائنز کی دوبارہ بحالی کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم اس پر ابھی تک کوئی عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ کوئلہ اورکزئی ایجنسی کا واحد قیمتی ذخیرہ ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے اس ایجنسی میں زیادہ تر لوگ بھنگ کی فصل کاشت کرتے رہے ہیں جس سے چرس بنتی ہے۔ تاہم توقع تھی کہ معدنی ذخائر کی ترقی سے یہاں چرس کے کاروبار میں کمی واقع ہوگی۔ لیکن معدنیات پر حالیہ پابندی سے پھر سے چرس کے کاروبار میں اضافے کا امکان ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ورکزئی ایجنسی میں کوئلے کے علاوہ سنگ مرمر اور سیمنٹ میں استعمال ہونے والی قیمتی مٹی بھی وافر مقدار میں پائی جاتی ہے لیکن شدت پسندی کی وجہ سے اس ضمن میں کوئی کام نہیں ہوا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں