لائن آف کنٹرول کی صورت حال پر اہم اجلاس

لائن آف کنٹرول تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی بے دریغ فائرنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر غور کرنے کے لیے جمعرات کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم نواز شریف کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں بدھ کو ایک مسافر بس پر انڈین فوج کی براہ راست فائرنگ کی شدید مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے کہا گیا کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لے اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔

٭ ایل او سی پر انڈین فائرنگ سے 'دس پاکستانی ہلاک'

اجلاس میں مشیرِ خارجہ سرتاجِ عزیز، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، وزیرِ اعظم کے مشیر طارق فاطمی، قومی سلامتی کے مشیر ناصر خان جنجوعہ، سیکریٹری خارجہ عزیز احمد چوہدری اور دوسرے اعلیٰ عہدے داروں نے شرکت کی۔

اجلاس میں انڈیا کی جانب سے ایک ایمبولینس کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption ملیحہ لودھی قوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری سے مل کر انھیں لائن آف کنٹرول پر صورتِ حال کی سنگینی سے آگاہ کریں گی

وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق نواز شریف نے کہا کہ شہریوں بالخصوص عورتوں اور بچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی حرکتوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔

ادھر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کی خلاف ورزی کے خلاف مختلف سفارتی اقدامات کرنے پر غور کر رہا ہے۔

پاکستان کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری سے مل کر انھیں صورتِ حال کی سنگینی سے آگاہ کریں گی۔

یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے مطابق گذشہ روز کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب انڈین فوج کی فائرنگ سے تین فوجی اہلکار اور دس شہری ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہو گئے۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے کہا کہ شہریوں کی ہلاکت کا واقعہ وادی نیلم میں لوات کے قصبے میں اس وقت پیش آیا جب انڈین فوج نے ایک مسافر بس کو چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ اس واقعے میں سات شہری ہلاک ہو گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PID

آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے مطابق ڈڈیال کے قریب ہونے والے اس حملے کے بعد جب ایک ایمبولینس زخمیوں کو لینے کے لیے وہاں پہنچی تو اس پر بھی فائرنگ کی گئی۔

واضح رہے کہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں اوڑی کیمپ پر شدت پسندوں کے حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر کشیدگی میں بےحد اضافہ ہو گیا ہے اور اس دوران متعدد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس سے قبل 28 اکتوبر کو پاکستان نے انڈیا سے ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ سے مزید چھ شہریوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے فائربندی کے معاہدے کے احترام کا مطالبہ کیا تھا۔

دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں