مانسہرہ میں خواتین اساتذہ کا پولیو مہم میں حصہ لینے سے انکار

پولیو
Image caption خواتین اساتذہ کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے چار روز تک گھروں سے دور رہ کر مہم میں حصہ لینا ممکن نہیں ہے

بدھ کے روز مانسہرہ میں تقریبا اڑھائی سو خواتین کو پولیو کے قطرے پلانے کی تربیت کے لیے اکٹھا کیا گیا لیکن خواتین اساتذہ نے تربیتی سیشن کا بائیکاٹ کر دیا۔

خواتین اساتذہ کا موقف ہے کہ پولیو کے قطرے پلانے کی خطرناک مہم پر انھیں بھیجنے کی بجائے محکمۂ صحت اپنے اہلکاروں سے کام لے۔

مقامی صحافی محمد زبیر خان کے مطابق اس موقعے پر خواتین اساتذہ کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے لیے چار روز تک گھروں سے دور رہ کر مہم میں حصہ لینا ممکن نہیں ہے اور اس میں خطرات بھی لاحق ہیں۔

مانسہرہ میں ٹیچر ایسوسی ایشن کے صدر مولانا عبدالسلام نے کہا کہ خواتین اساتذہ سے پولیو قطرے پلانے کا کام لینا مناسب نہیں ہے کیونکہ مذکورہ سٹاف محکمہ تعلیم کا ملازم ہے نہ کہ محکمہ صحت کا۔

ان کا کہنا تھا کہ خواتین اساتذہ کے لیے کئی روز گھر چھوڑ کر جانا ممکن نہیں ہے۔

ڈپٹی کمشنر مانسہرہ اقبال حسین نے اس موقعے پر کہا کہ مانسہرہ میں محکمہ صحت کے عملے کی کمی کی وجہ سے محکمہ تعلیم کے عملے کی خدمات طلب کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں خواتین سے مذاکرات جاری ہیں۔

تاہم دوسری جانب مانسہرہ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔

خیال رہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں پشاور سمیت 13 اضلاع میں تین روزہ پولیو مہم کا آغاز 24 نومبر سے ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق مہم کے دوران 56 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

اس دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ پولیو ٹیموں کے ہمراہ پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق انسداد پولیو مہم کے دوران قطرے پلوانے سے انکاری والدین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق روان سال صوبہ خیبر پختونخوا میں پولیو کے کل 18 مریض ریکارڈ ہوئے ہیں۔ جن میں آٹھ خیبر پختونخوا، سات سندھ، ایک بلوچستان اور فاٹا میں ایک کیس سامنے آیا ہے۔

اسی بارے میں